LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ آئل ٹینکرز پر حالیہ حملے، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں شدید کمی ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان آئرلینڈ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 نوجوان ہلاک، 4 افراد زخمی

پودوں پر مشتمل غذا آنتوں کے بیکٹیریا کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟ اہم انکشاف

Web Desk

16 August 2026

پودوں پر مشتمل غذا انسانی صحت بالخصوص نظامِ ہاضمہ، مدافعتی نظام، میٹابولزم اور قلبی صحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ لڈوِگ پرنسٹن سے وابستہ سائنس دانوں جینا ابو سلیم اور ڈائریکٹر جوشوا رابینووٹز کی قیادت میں کی گئی دو جدید تحقیقات میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ نباتاتی غذا میں موجود غذائی فائبر اور فائٹو کیمیکلز (رنگ دار کیمیائی مرکبات) آنتوں میں موجود مائیکرو بایوم کی ساخت اور ان سے پیدا ہونے والے مفید میٹابولائٹس کو بہتر بناتے ہیں۔ پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (PNAS) اور ‘نیچر میٹابولزم’ میں شائع ہونے والی ان رپورٹس کے مطابق نباتاتی فائبر اور پروٹینز آنتوں کے جراثیم کے میٹابولزم کو اس طرح تبدیل کرتے ہیں جس سے نقصان دہ مرکبات کی مقدار کم اور مفید کیمیائی اجزا کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اس تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف بھی ہوا کہ جن اہم میٹابولائٹس کو صرف آنتوں کے بیکٹیریا کی پیداوار سمجھا جاتا تھا، وہ دراصل ممالیہ جانوروں کے جسم میں بھی خود بخود نمایاں مقدار میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دریافتیں مستقبل میں مخصوص غذائی حکمت عملیوں اور آنتوں کی صحت پر مبنی مؤثر علاج وضع کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوں گی۔