LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملکی ترقی اور خوشحالی پی ٹی آئی کو ہضم نہیں ہو رہی: عطا تارڑ آزاد کشمیر الیکشن: ایل اے 15 اور ایل اے 16 کے 23 پولنگ سٹیشنز پر ری پولنگ کا فیصلہ یوکرین کا مگ-29 لڑاکا طیارہ گر کرتباہ عالمی و مقامی سطح پر سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ امریکا ایران کشیدگی کے حل کے لیے دنیا کی نظریں پاکستان، قطر اور عمان پر مرکوز شامی عدالت نے معزول صدر بشارالاسد کو سزائے موت سنادی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بحرین کا خیرمقدم کسٹمز بانڈڈ وئیر ہاؤسز میں کسی بھی بے ضابطگی کی گنجائش نہیں: وزیراعظم موجودہ الیکشن میں لوگوں کی رائے پر حکومتیں نہیں بنیں: حافظ نعیم الرحمٰن میٹرو بس سروس بندش کا خطرہ ٹل گیا، ویڈا اور ماس ٹرانزٹ اتھارٹی میں اتفاق وزیراعظم سے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج کی ملاقات آئی ایم ایف پروگرام: پانچویں قسط کے حصول کے لئے تیاریاں شروع پاکستان کے 1100 سے زائد نوادرات کی بیرونِ ملک سے واپسی کوئٹہ سے دیگر صوبوں کو جانے والی ٹرین سروس ایک روز کیلئے معطل رہبرِ انقلاب نے دشمن کے خلاف قومی اتحاد، یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا: ایرانی صدر

اسلام آباد ہائیکورٹ: ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر، وزیراعظم کو نوٹس

Web Desk

10 August 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعلیٰ عدلیہ میں نئے ججز کی تعیناتی سے متعلق سمری کی منظوری التوا میں رہنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان کو ان کے سیکرٹریز کے ذریعے کل کے لیے نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے وزارتِ قانون سے بھی کل تک جواب طلب کر لیا ہے۔

یہ فیصلہ درخواست گزار لقمان ظفر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سامنے آیا، جس کی پیروی وکیل زاہد آصف چودھری نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاقی حکومت کی عدم توجہی پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ سے استفسار کیا کہ سمری اس وقت کس اسٹیج پر رکی ہوئی ہے اور حکومت اپنی آئینی ذمہ داری کیوں نہیں نبھا رہی؟

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ جوڈیشل کمیشن کی منظوری کے باوجود اسلام آباد ہائیکورٹ، سندھ ہائیکورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی کنفرمیشن کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی وقت (15 دن) گزرنے کے بعد اب 18 دن ہو چکے ہیں اور اس طرح سمری پر بلاوجہ التوا اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ وکیل صفائی نے مؤقف اپنایا کہ صدر سمری کو روک کر نہیں بیٹھ سکتے، جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ صدر اب اسے مسترد بھی نہیں کر سکتے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو کل تک پوزیشن واضح کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔