LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن

مٹاپے کا سبب بننے والے پانچ نئے جینز دریافت

Web Desk

5 December 2025

تازہ ترین مطالعے میں محققین نے ایک درجن سے زیادہ جینز کی نشان دہی کی ہے جو انسان کے مٹاپے میں مبتلا ہونے کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان جینز میں پانچ بالکل نئی دریافت ہیں۔

مٹاپہ ٹائپ ٹو ذیا بیطس، قلبی مرض اور آسٹو آرتھرائٹس جیسی سحت کی پیچیدہ کیفیات کےخطرات میں اضافہ کرتا ہے۔جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں 8 لاکھ 50 ہزار افراد نے حصہ لیا جن کے آبا و اجداد کا تعلق چھ برِاعظموں سے تھا اور ان میں 13 جینز پائے گئے جن کا تعلق مٹاپے سے تھا۔ان جینز میں سے آٹھ ایسے تھے جو ماضی کے مطالعوں میں دریافت کیے جا چکے ہیں، لیکن دیگر پانچ جینز ایسے ہیں جن کی شناخت پہلی بار کی گئی ہے۔ ان جینز میں YLPM1, RIF1, GIGYF1, SLC5A3 اور GRM7 شامل ہیں۔محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج دنیا بھر کے اہم جینز کو سامنے لانے کے بعد مؤثر دوا بنانے میں مدد دے سکتے ہیں جو شاید ایک قسم کی آبادی پر کیے جانے والے مطالعے میں ممکن نہیں تھی۔