LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خواتین کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ میرا خواب ہے: مریم نواز آبنائے ہرمز کے قریب نئی کشیدگی، بندر عباس اور جزیرہ قشم کے قریب یکے بعد دیگرے دھماکے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے نئی گج ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے تک عدالتی مداخلت پر پابندی اسلام نے 14 صدیاں قبل خواتین کو مساوات اور معاشی حقوق دیے: یوسف رضا گیلانی ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا، 2 اہلکار شہید، متعدد زخمی او آئی سی کانفرنس، خواتین کی ترقی مسلم دنیا کی خوشحالی کی ضمانت ہے: اعظم نذیر وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے، نواز شریف بھی ہمراہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر مشترکہ طریقہ کار میں امریکا رکاوٹ بن رہا ہے: اسماعیل بقائی ضلع دیامر میں سیلابی ریلوں سے تباہی، متعدد مکانات اور رابطہ پل بہہ گئے وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ؛ نئی گج ڈیم کیس میں ہائی کورٹ کا حکم کالعدم یوکرینی صدر نے وزیراعظم یولیا کو عہدے سے ہٹا دیا، حکومت مستعفی وفاق اپنے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں دور کرے، سہیل آفریدی بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، اموات کی تعداد 52 ہوگئی مریم نواز سے پرتگال کے سفیر کی ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق

نئی گج ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے تک عدالتی مداخلت پر پابندی

Web Desk

13 July 2026

وفاقی آئینی عدالت نے نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے اور احکامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور منصوبے کی تکمیل تک کسی بھی عدالت کو اس معاملے میں مداخلت سے روک دیا ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کا تحریر کردہ 17 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ان ہدایات کا مقصد مزید قانونی چارہ جوئی کو ایک اہم عوامی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کی بروقت تکمیل میں رکاوٹ بننے سے روکنا ہے۔ فیصلے میں ریمارکس دیے گئے ہیں کہ ہائی کورٹ نے قانون کو مدنظر رکھے بغیر غلط ہدایات جاری کیں اور اپنے احکامات میں تنازعات کے حل سے متعلق معاہدے، واپڈا ایکٹ اور نیب قوانین کو بھی پیشِ نظر نہیں رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کے دائرۂ اختیار کو ازسرِ نو نہیں لکھا جا سکتا اور آئینی حدود سے تجاوز انصاف کی کھلی خرابی کا باعث بنتا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے توقع ظاہر کی ہے کہ تمام فریقین اصل معاہدے کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھائیں گے؛ کنٹریکٹر کی شکایت موصول ہونے پر واپڈا 15 روز کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا، جب کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں واپڈا کو قانون کے مطابق کاموں کو دوبارہ ٹینڈر کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔