LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا نے حزب اللہ کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا افغانستان میں حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ کے 2 اہلکار رہا ترکیہ، مصر اور قطر کی غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان صدر مملکت کا پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی خدمات کا اعتراف امریکا کا ایران کیساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کیخلاف بھی سخت اقدامات کا اعلان بی این پی کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام بنگلادیش کے نئے صدر منتخب پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی، اسلام آباد کیلئے کال دوں گا: حافظ نعیم الرحمان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا بلاول بھٹو سے پیپلز پارٹی رہنماؤں کی ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو بیرونی سرمایہ کاری لانے کا مشن، صوبائی وزیر چوہدری شافع کینیڈا پہنچ گئے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی، فیصلے کیخلاف درخواست دوبارہ دائر کر رہے ہیں: رانا ثنا نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج، فیصلہ جاری عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل

بلوچستان حکومت فوری مستعفی ہو اور لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے,مصطفیٰ نواز کھوکھر

Web Desk

10 July 2026

معروف سیاستدان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بلوچستان کے حالیہ بحران اور آزاد کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات پر ملک میں بسنے والا ہر شہری رنجیدہ ہے۔ انہوں نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم کوئٹہ کے دورے پر تو گئے لیکن وہ شہداء کے ورثاء اور زخمیوں کی عیادت کے لیے نہیں گئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان کے حقیقی مسائل سے مکمل لا تعلق ہو چکی ہے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ‘تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان’ کے اہم مطالبات سامنے رکھتے ہوئے زور دیا کہ بلوچستان حکومت فوری طور پر مستعفی ہو، تمام لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے، حکومت وہاں بنائے گئے مبینہ ‘ڈیتھ اسکواڈز’ سے دستبردار ہو اور تمام سیاسی اسیران کو فوری رہا کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس خطے میں ‘ہارڈ اسٹیٹ’ (سخت گیر ریاست) کا قیام ممکن نہیں ہے، اور آزاد کشمیر کی حساسیت کو بھی مدنظر نہیں رکھا جا رہا۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں انتخابات ملتوی کرنے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ فوری طور پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ بامقصد بات چیت کا آغاز کرے۔