تنخواہ داروں کا ٹیکس حصہ بااثر ایکسپورٹرز، رئیل اسٹیٹ اور ریٹیلرز سے کئی گنا زیادہ
Web Desk
4 July 2026
پاکستان میں مالی سال 26-2025 کے دوران تنخواہ دار طبقے نے اپنی آمدن پر تقریباً 633 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا ہے، جو ملک کے بڑے اور بااثر شعبوں یعنی برآمد کنندگان (Exporters)، رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل کاروبار سے مجموعی طور پر وصول کیے گئے انکم ٹیکس سے بھی زیادہ رہا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملکی معیشت اور ٹیکس نیٹ میں تنخواہ دار طبقہ سب سے مضبوط ستون ثابت ہوا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 13 ہزار 10 ارب روپے کے تاریخی محصولات جمع کیے گئے، جن میں تنخواہ دار طبقہ سب سے نمایاں ٹیکس دہندگان میں شامل رہا۔ زیرِ جائزہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس 633 ارب روپے رہا، جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال (25-2024) میں یہ رقم 585 ارب روپے ریکارڈ کی گئی تھی۔
ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق، تنخواہ دار طبقے کے مقابلے میں دیگر بڑے شعبوں سے وصولیاں درج ذیل رہیں، 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں صرف 174 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جبکہ اس سے پہلے کے مالی سال میں ان کی جانب سے 176 ارب روپے ٹیکس جمع کروایا گیا تھا (یعنی ایکسپورٹرز کے ٹیکس میں کمی واقع ہوئی)۔ پراپرٹی کے شعبے سے ایف بی آر نے 191 ارب روپے ٹیکس وصول کیا، جو گزشتہ مالی سال وصول کیے گئے 118 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ شق 236-G کے تحت ریٹیلرز سے 25 ارب روپے وصول کیے گئے (جو ایک سال قبل 24 ارب روپے تھے)، جبکہ شق 236-H کے تحت مالی سال 26-2025 میں 45 ارب روپے جمع کیے گئے جو گزشتہ برس 38 ارب روپے تھے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، پاکستان میں نئے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس وصولی کا مجموعی ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اس بھاری ہدف کو پورا کرنے کے لیے موجودہ بجٹ میں ریٹیلرز کے لیے ایک نیا فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کروایا گیا ہے، جبکہ طویل عرصے سے بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے ان پر عائد انکم ٹیکس کی شرح میں کچھ کمی کی گئی ہے، تاکہ ان پر معاشی دباؤ کم کیا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی پاکستان کے لیے بڑا اعزاز ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دن رات محنت کر کے اہم کردار ادا کیا: وزیراعظم شہباز شریف
4 July 2026
دریائے سندھ اور چناب کا کٹاؤ شدت اختیار کر گیا، چارہ کھاتی بھینس بھی بہہ گئی
4 July 2026
عمرکوٹ میں مبینہ زہریلا کھانا کھانے سے 2 بھائی جاں بحق
4 July 2026
سوات میں دیرینہ تنازع پر فائرنگ، رہنما پیپلز پارٹی جاں بحق ، راہگیر زخمی
4 July 2026
سیف اللہ جھیل میں سیاحوں کی کشتی الٹنے کا واقعہ، کشتی آپریٹر گرفتار
4 July 2026
طلال چوہدری کی آسٹریا میں “گلوبل الائنس ٹو کاؤنٹر مائیگرنٹ سمگلنگ” کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت
4 July 2026
حکمرانوں اور بیرونی طاقتوں کی خواہشات پر تاریخ مسخ کی گئی: خواجہ آصف
4 July 2026
وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرلیں
4 July 2026