LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہتھیاروں کی فراہمی سے برطانیہ، فرانس بھی اسرائیلی جرائم میں شریک ہو رہے ہیں: ایران ایران کیخلاف امریکی جنگ کے اخراجات یومیہ 5 ارب ڈالر تک جا پہنچے ایران آئندہ 50 برسوں کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری کر رہا ہے، جنرل ابن الرضا دفاعی صنعت جدید ہتھیاروں کے نظام اور فوجی سازوسامان تیار کر رہی ہے، ایرانی وزارت دفاع امریکا کا ایران پر نیا معاشی دباؤ فوجی محاذ پر ناکامی کا بالواسطہ اعتراف ہے، پاسداران انقلاب ’’منجمد خارجہ پالیسی، منجمد معیشت کو جنم دیتی ہے‘‘، ایرانی سپیکر کا امریکی پالیسی پر طنزیہ وار صدر مملکت سے سعودی سفیر کی الوداعی ملاقات، عوامی محبت و تعاون پر اظہار تشکر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر لندن پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر امیدواروں کی دستبرداری مکمل، کل پولنگ ہوگی حکمران آئین پر عمل نہیں کرتے تو ان کی کوتاہی ہے: مولانا فضل الرحمان شام کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا تاریخی دورہ، دوطرفہ تعلقات میں نئے باب کا آغاز جماعت اسلامی کسی گرینڈ اپوزیشن اتحاد کا حصہ بننے نہیں جا رہی: حافظ نعیم الرحمان جنگ سے خطے میں نئی جغرافیائی سیاسی بیداری پیدا ہوئی: ترجمان ایرانی فوج ٹرمپ کی دھمکی پرانی فلم، ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں: عباس عراقچی شہباز-نواز شریف ملاقات: بانی پی ٹی آئی کی پمز منتقلی اور سیاسی و قانونی حکمتِ عملی پر مشاورت

عمرکوٹ میں مبینہ زہریلا کھانا کھانے سے 2 بھائی جاں بحق

Web Desk

4 July 2026

سندھ کے ضلع عمرکوٹ کی تحصیل کنری کے قریبی گاؤں میں ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر زہریلا کھانا کھانے اور دودھ پینے کی وجہ سے دو سگے بھائی اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ اس ہولناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں سوگ کی فضا برقرار ہے اور متاثرہ گھر میں کہرام مچا ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ کنری کے نواحی گاؤں ‘حیات گپنہ’ میں پیش آیا۔ مقتول بچوں کے سوگوار ورثاء نے میڈیا کو روتے ہوئے بتایا کہ دونوں بھائیوں نے رات کو معمول کے مطابق کھانا کھایا اور دودھ پیا، جس کے کچھ ہی دیر بعد اچانک ان کی طبیعت انتہائی ناساز ہو گئی اور وہ درد سے تڑپنے لگے۔

ورثاء نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ طبیعت بگڑنے پر دونوں بچوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں 10 سالہ علی حسن تعلقہ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود دورانِ علاج دم توڑ گیا۔

دوسرے بھائی، 12 سالہ محمد حسنین کی حالت مسلسل بگڑتی جا رہی تھی، جس پر ڈاکٹروں نے اسے ابتدائی طبی امداد کے بعد فوری طور پر حیدرآباد کے بڑے ہسپتال ریفر کر دیا۔ تاہم، بدقسمت محمد حسنین ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی راستے میں تڑپ تڑپ کر جان کی بازی ہار گیا۔

تعلقہ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں معصوم بچوں کی لاشوں کا معائنہ کرنے اور ضروری قانونی و طبی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میتیں تدفین کے لیے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ دوسری جانب مقامی پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے بتایا ہے کہ کھانے اور دودھ کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھیجے جا رہے ہیں اور واقعے کی ہر پہلو سے باریک بینی کے ساتھ مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔