LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر میں انتخابی عمل مکمل، ن لیگ 25 نشستوں کے ساتھ سرفہرست آزاد کشمیر میں عوام نے انتشار اور تشدد کی سیاست کو مسترد کر دیا: مریم نواز آزاد کشمیر الیکشن: ایل اے 16 میں مسلم لیگ (ن)، ایل اے 15 میں پیپلز پارٹی کامیاب بھارتی فوج کی جانب سے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت، گٹھ جوڑ دوبارہ بے نقاب حزب اللہ کمانڈر کی شہادت کے بعد امریکا سے مذاکرات معطل کر دیے: باقر قالیباف تیل کی قیمتیں کم رکھنا امریکا کی پہلی ، ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا دوسری ترجیح ہے: جے ڈی وینس انڈونیشیا میں زلزلے سے جانی نقصان پر وزیراعظم کا اظہار افسوس آزاد کشمیر الیکشن: نتائج کو’’فارم 47 پلس‘‘ کے نام سے یاد رکھا جائیگا: شرجیل میمن نیویارک کی تاریخی پاکستان ڈے پریڈ 42ویں سال میں داخل، بلال سعید پہلی بار میڈیسن ایونیو پر سر بکھیریں گے شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن،10 دہشت گرد ہلاک آزاد کشمیر میں عوام نے انتشار اور تشدد کی سیاست کو مسترد کر دیا: مریم نواز دنیا کے کسی معاشرے نے خواتین کو محکوم رکھ کر ترقی نہیں کی: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ مخالفین کیساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کیا، امید نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے شکایت کا موقع ملے گا: نوازشریف مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کا اجلاس شروع، آزادکشمیر میں حکومت سازی پر غور بھارتی حکام نے میرواعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر میں نظر بند کردیا

بینکوں کے منافع کا 60 فیصد حصہ حکومت کو ٹیکس کی مد میں جاتا ہے، ترسیلاتِ زر کو اب حکومت کے بجائے بینکس سپورٹ کریں گے: عاطف باجوہ

Web Desk

4 July 2026

پاکستان بینکنگ سمِٹ 2026ء کے چیئرمین عاطف باجوہ نے کہا ہے کہ بینکنگ سیکٹر کئی سالوں سے حکومتی شراکت داری کے ساتھ مستحکم کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ انہوں نے عوامی تاثر کو رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تاثر عام ہے کہ بینکس بہت زیادہ پیسہ کماتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بینکوں کے مجموعی منافع کا 60 فیصد حصہ ٹیکسوں کی مد میں حکومت کو چلا جاتا ہے۔ قرضوں کی فراہمی سے لے کر اسٹاک مارکیٹ تک، بینک حکومتی شراکت داری میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

عاطف باجوہ نے ترسیلاتِ زر (Remittances) پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا انحصار ہمیشہ سے اوورسیز فنڈز پر رہا ہے اور اب یہ انحصار مزید بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے ایک اہم پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ترسیلاتِ زر کو اب حکومت کی بجائے بینک سپورٹ کریں گے، جو معیشت کی مضبوطی کے لیے ایک اور بڑی پارٹنرشپ ثابت ہوگی۔ اس کے علاوہ، ملکی برآمدات کو عالمی مارکیٹ میں مسابقتی بنانے کے لیے ایکسپورٹس ری فنانس اسکیم کے ریٹس میں بھی کمی کی گئی ہے۔

چیئرمین سمِٹ نے زور دیا کہ موجودہ دور میں سب سے اہم بات ڈیجیٹائزیشن ہے۔ حکومت نے ایک جامع ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا ڈیزائن تیار کیا ہے، اور کیش سے ڈیجیٹل اکانومی کی جانب ملک کے اس سفر کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے جس میں بینک کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال کی سمِٹ کے نتیجے میں حکومتی منصوبوں میں معاونت کے حوالے سے نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔ بین الاقوامی اور خطے کے حالات کی وجہ سے پاکستان کو نئے مسائل کا سامنا ہے، تاہم بینکنگ سیکٹر ملکی معیشت کی نمو کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات کے مطابق مسلسل کوشاں ہے۔ عاطف باجوہ نے بتایا کہ زراعت، ہاؤسنگ اور ایس ایم ایز (SMEs) کے شعبوں میں وہ حکومت کے ساتھ مل کر مزید کام کرنا چاہتے ہیں اور اس سمِٹ میں ملک کے اہم پالیسی ساز اور ریگولیٹرز بھی سرجوڑ کر بیٹھیں گے۔