LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران پر نئی پابندیوں سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ خلا سے زمین کا سحر انگیز منظر، خلاباز نے رقص کرتی سبز روشنیاں شیئر کردیں ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام؛ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی کی طلبہ کیساتھ نشست محمود اچکزئی دہشت گردوں کا نام نہ لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان پنجاب میں موسمِ گرما کی تعطیلات ختم، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی

حکمرانوں اور بیرونی طاقتوں کی خواہشات پر تاریخ مسخ کی گئی: خواجہ آصف

Web Desk

4 July 2026

وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ملک کے تعلیمی نظام اور نصاب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں استاد اور شاگرد کے رشتے کا روایتی تقدس شدید متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مختلف ادوار میں حکمرانوں نے اپنی سیاسی ضروریات اور عالمی سپر پاورز (عالمی طاقتوں) کو خوش کرنے کے لیے تعلیمی نصاب اور تاریخ کو مسخ کیا، جس کے باعث نئی نسل درست تاریخی شعور اور اخلاقی کردار سازی سے محروم رہ گئی ہے۔

سیالکوٹ میں ایک تعلیمی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ موجودہ تعلیمی نصاب اپنی اصل روح سے ہٹ چکا ہے۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے طالب علمی کے دور میں تحریکِ پاکستان، برصغیر، مسلم تاریخ اور عالمی تاریخ جس اعلیٰ معیار اور حقائق کے ساتھ پڑھائی جاتی تھی، آج وہ معیار بالکل برقرار نہیں رہا اور طلبہ کو کئی ایسے حقائق پڑھائے جا رہے ہیں جو حقیقت پر مبنی ہی نہیں ہیں۔

وزیرِ دفاع نے زور دیا کہ تعلیم کا مقصد صرف کاغذ کی ڈگری حاصل کرنا یا سرکاری ملازمت پانا نہیں ہوتا، بلکہ ایسے باکردار اور ذمہ دار شہری تیار کرنا ہے جو معاشرے کے لیے رول ماڈل بن سکیں۔ انہوں نے ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بہت سی طالبات میڈیکل کی بھاری اور قیمتی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد عملی طور پر طب کا پیشہ (پروفیشن) اختیار نہیں کرتیں، جو ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے اور اس رجحان کو بدلنا اب اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔

سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے اپنی ہی برادری کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ “سیاست دانوں کو خود اپنی منزل کا پتا نہیں، وہ دوسروں کی کیا رہنمائی کریں گے؟” انہوں نے سیاست دانوں کو مشورہ دیا کہ وہ باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملکی ترقی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

انہوں نے قومی شناخت کے فروغ کے لیے تجویز دی کہ پنجاب سے لے کر گلگت بلتستان تک پورے ملک میں یکساں نصابِ تعلیم ہونا چاہیے، کیونکہ آئینی روح کے مطابق ہماری شناخت صرف اور صرف ‘پاکستانی’ ہونی چاہیے، علاقائی نہیں۔

خواجہ آصف نے ملکی سلامتی پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں پاکستان نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، ان کی مثال ملک کی 78 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ کبھی دہشت گردی کی وجہ سے پہچانا جانے والا ملک آج دنیا میں امن کی علامت بن کر ابھرا ہے، اور خطے کو بڑی تباہی سے بچانے میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا انتہائی کلیدی کردار رہا ہے جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔