LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف امریکی جنگ کے اخراجات یومیہ 5 ارب ڈالر تک جا پہنچے ایران آئندہ 50 برسوں کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری کر رہا ہے، جنرل ابن الرضا دفاعی صنعت جدید ہتھیاروں کے نظام اور فوجی سازوسامان تیار کر رہی ہے، ایرانی وزارت دفاع امریکا کا ایران پر نیا معاشی دباؤ فوجی محاذ پر ناکامی کا بالواسطہ اعتراف ہے، پاسداران انقلاب ’’منجمد خارجہ پالیسی، منجمد معیشت کو جنم دیتی ہے‘‘، ایرانی سپیکر کا امریکی پالیسی پر طنزیہ وار صدر مملکت سے سعودی سفیر کی الوداعی ملاقات، عوامی محبت و تعاون پر اظہار تشکر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر لندن پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر امیدواروں کی دستبرداری مکمل، کل پولنگ ہوگی حکمران آئین پر عمل نہیں کرتے تو ان کی کوتاہی ہے: مولانا فضل الرحمان شام کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا تاریخی دورہ، دوطرفہ تعلقات میں نئے باب کا آغاز جماعت اسلامی کسی گرینڈ اپوزیشن اتحاد کا حصہ بننے نہیں جا رہی: حافظ نعیم الرحمان جنگ سے خطے میں نئی جغرافیائی سیاسی بیداری پیدا ہوئی: ترجمان ایرانی فوج ٹرمپ کی دھمکی پرانی فلم، ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں: عباس عراقچی شہباز-نواز شریف ملاقات: بانی پی ٹی آئی کی پمز منتقلی اور سیاسی و قانونی حکمتِ عملی پر مشاورت میر رضا کیس، سندھ کابینہ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا فیصلہ

حکمرانوں اور بیرونی طاقتوں کی خواہشات پر تاریخ مسخ کی گئی: خواجہ آصف

Web Desk

4 July 2026

وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ملک کے تعلیمی نظام اور نصاب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں استاد اور شاگرد کے رشتے کا روایتی تقدس شدید متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مختلف ادوار میں حکمرانوں نے اپنی سیاسی ضروریات اور عالمی سپر پاورز (عالمی طاقتوں) کو خوش کرنے کے لیے تعلیمی نصاب اور تاریخ کو مسخ کیا، جس کے باعث نئی نسل درست تاریخی شعور اور اخلاقی کردار سازی سے محروم رہ گئی ہے۔

سیالکوٹ میں ایک تعلیمی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ موجودہ تعلیمی نصاب اپنی اصل روح سے ہٹ چکا ہے۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے طالب علمی کے دور میں تحریکِ پاکستان، برصغیر، مسلم تاریخ اور عالمی تاریخ جس اعلیٰ معیار اور حقائق کے ساتھ پڑھائی جاتی تھی، آج وہ معیار بالکل برقرار نہیں رہا اور طلبہ کو کئی ایسے حقائق پڑھائے جا رہے ہیں جو حقیقت پر مبنی ہی نہیں ہیں۔

وزیرِ دفاع نے زور دیا کہ تعلیم کا مقصد صرف کاغذ کی ڈگری حاصل کرنا یا سرکاری ملازمت پانا نہیں ہوتا، بلکہ ایسے باکردار اور ذمہ دار شہری تیار کرنا ہے جو معاشرے کے لیے رول ماڈل بن سکیں۔ انہوں نے ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بہت سی طالبات میڈیکل کی بھاری اور قیمتی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد عملی طور پر طب کا پیشہ (پروفیشن) اختیار نہیں کرتیں، جو ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے اور اس رجحان کو بدلنا اب اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔

سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے اپنی ہی برادری کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ “سیاست دانوں کو خود اپنی منزل کا پتا نہیں، وہ دوسروں کی کیا رہنمائی کریں گے؟” انہوں نے سیاست دانوں کو مشورہ دیا کہ وہ باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملکی ترقی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

انہوں نے قومی شناخت کے فروغ کے لیے تجویز دی کہ پنجاب سے لے کر گلگت بلتستان تک پورے ملک میں یکساں نصابِ تعلیم ہونا چاہیے، کیونکہ آئینی روح کے مطابق ہماری شناخت صرف اور صرف ‘پاکستانی’ ہونی چاہیے، علاقائی نہیں۔

خواجہ آصف نے ملکی سلامتی پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں پاکستان نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، ان کی مثال ملک کی 78 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ کبھی دہشت گردی کی وجہ سے پہچانا جانے والا ملک آج دنیا میں امن کی علامت بن کر ابھرا ہے، اور خطے کو بڑی تباہی سے بچانے میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا انتہائی کلیدی کردار رہا ہے جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔