LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے اسرائیل کا جنوبی لبنان میں سیز فائر کے بعد سب سے مہلک ترین حملہ، 11 افراد شہید جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو جنگ باضابطہ ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی ایران نے فرانس کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے خبردار کر دیا آبنائے ہرمز کی بندش کسی کے مفاد میں نہیں، دوبارہ کھولنا ترجیح ہے: ترک صدر ایران نے امریکی فوجیوں کی تدفین کیلئے جگہ مختص کر دی، 5 ہزار قبروں کی گنجائش ہوگی حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد یمن کی المخا بندرگاہ نے آپریشن معطل کر دیا قطر نے ایرانی طیاروں کے 3 پائلٹس کی گرفتاری کے دعوؤں کی تردید کر دی ایران کو اپنے 3 پائلٹس قطر میں قید ہونے کا شبہ، ریڈ کراس سے مدد کی اپیل آبنائے ہرمز ایران کے اختیار میں ہے، ٹرمپ کے بیانات زمینی حقائق تبدیل نہیں کرسکتے: ایرانی عدلیہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال آٹھویں روز میں داخل، حکومت سے آج دوبارہ مذاکرات ہوں گے آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہوگا: ایرانی نائب وزیرخارجہ

یمن میں سعودی اتحاد کا حوثیوں کو بھرپور جواب کی دھمکی، کشیدگی میں اضافہ

Web Desk

4 July 2026

یمن میں سرگرم سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے یمنی حوثی باغیوں کو سخت ترین لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب کی سلامتی یا تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کوشش کی گئی، تو اس کا جواب انتہائی بھرپور اور غیر معمولی فوجی طاقت کے استعمال کے ساتھ دیا جائے گا۔

سعودی فوجی اتحاد کا یہ سخت اور جارحانہ ردعمل حوثی باغیوں کے اس حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے سعودی عرب پر یمنی فضائی حدود کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سنگین الزام عائد کیا تھا۔ حوثی باغیوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر یہ مبینہ خلاف ورزیاں فوری طور پر بند نہ کی گئیں تو وہ جوابی کارروائی کے طور پر سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، خشکی اور سمندر میں واقع دیگر انتہائی اہم اور حساس تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کریں گے۔

سعودی اتحاد کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، جغرافیائی حدود اور ملکی سلامتی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اتحاد کسی بھی ممکنہ جارحیت کا منہ توڑ اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے عسکری طور پر پوری طرح تیار اور مستعد ہے۔

خلیجی معاشی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے جاری ہونے والے ان حالیہ اور انتہائی سخت بیانات کے بعد خطے میں طویل عرصے سے جاری جنگ کے دوبارہ بھڑکنے اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ کشیدگی میں شدید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔