ایم کیو ایم کی وزیراعظم کو آخری وارننگ: مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے، فاروق ستار کی ‘ایس او ایس’ کال
Web Desk
4 July 2026
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت کو سخت ترین الٹی میٹم دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر گورنر شپ کی واپسی سمیت ان کے تین بنیادی مطالبات پورے نہ کیے گئے تو ایم کیو ایم کے ارکانِ قومی اسمبلی کسی بھی وقت اسپیکر کو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی درخواست دے سکتے ہیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ وہ یہ پریس کانفرنس پارٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی کی رضامندی اور ان کی طرف سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے ایک ‘ایس او ایس’ (SOS) کال دی اور کہا کہ 30 مارچ 2022 کو پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے ضامن میاں شہباز شریف خود ہیں، اس لیے اب صوبائی حکومت پر ملبہ ڈال کر وفاق اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآں نہیں ہو سکتا۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے واضح کیا کہ یہ ایم کیو ایم کا آخری معاہدہ ہے جس میں صوبائی وزارتوں کا کوئی مطالبہ نہیں تھا، بلکہ پہلی شق یہ تھی کہ بلدیاتی اداروں کے اختیارات ایک ماہ میں منتقل کیے جائیں گے اور بلاول بھٹو نے اس مطالبے کو تسلیم کیا تھا۔ تاہم، بار بار یاد دہانی کے باوجود اس پر عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کراچی کے عوام سڑکوں پر آ گئے تو انہیں واپس لانا کسی کے بس میں نہیں ہوگا اور ایم کیو ایم ایسی بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرنے جا رہی ہے جو وفاق اور صوبائی حکومت دونوں کے خلاف ہوگی۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے مطالبات اور تحفظات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وفاق آئین کے تحت کراچی میں ریفرنڈم کرائے، کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے اور نئے انتظامی یونٹ بنائے جائیں۔ شہری علاقوں کو 60 اور 40 فیصد کا کوٹہ ملنا چاہیے اور جعلی ڈومیسائل کی تحقیقات کے لیے طے شدہ کمیشن فوری بنایا جائے۔ کراچی کو کم از کم 70 ارب روپے دیے جائیں اور سندھ کی گورنر شپ فوری طور پر ایم کیو ایم کو واپس کی جائے۔ آرٹیکل 140-اے: آرٹیکل 140 اے پر عمل درآمد کے لیے فوری طور پر کمیٹی تشکیل دی جائے۔ انہوں نے سندھ حکومت پر برہم ہوتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 18 سال سے بدترین حکمرانی جاری ہے جہاں تمام وسائل پر ایک مخصوص طبقے کی دسترس ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سندھ حکومت بتائے کہ گریڈ 1 سے 15 تک کتنی ملازمتیں دی گئیں؟ مزید برآں، انہوں نے بلدیہ فیکٹری کیس پر سندھ حکومت کی نظرثانی اپیل کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کراچی ماسٹر پلان اور پبلک سیکٹر ویمن یونیورسٹی کے قیام جیسے منصوبوں پر کوئی عمل نہیں ہوا۔
فاروق ستار نے رانا ثناء اللہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گورنر ہٹانے میں ہمارا کوئی کردار نہیں تھا، بلکہ یہ کسی اور کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ملکی برآمدات کا 90 فیصد دینے والے کراچی کی محرومی اب حد پار کر چکی ہے، لہذا وزیراعظم خود کراچی آ کر بیٹھیں اور اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں۔
متعلقہ عنوانات
امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی پاکستان کے لیے بڑا اعزاز ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دن رات محنت کر کے اہم کردار ادا کیا: وزیراعظم شہباز شریف
4 July 2026
دریائے سندھ اور چناب کا کٹاؤ شدت اختیار کر گیا، چارہ کھاتی بھینس بھی بہہ گئی
4 July 2026
عمرکوٹ میں مبینہ زہریلا کھانا کھانے سے 2 بھائی جاں بحق
4 July 2026
سوات میں دیرینہ تنازع پر فائرنگ، رہنما پیپلز پارٹی جاں بحق ، راہگیر زخمی
4 July 2026
سیف اللہ جھیل میں سیاحوں کی کشتی الٹنے کا واقعہ، کشتی آپریٹر گرفتار
4 July 2026
طلال چوہدری کی آسٹریا میں “گلوبل الائنس ٹو کاؤنٹر مائیگرنٹ سمگلنگ” کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت
4 July 2026
حکمرانوں اور بیرونی طاقتوں کی خواہشات پر تاریخ مسخ کی گئی: خواجہ آصف
4 July 2026
وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرلیں
4 July 2026