LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
9 مئی جلاؤ گھیراؤ کیس: انسدادِ دہشت گردی عدالت نے حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ریلوے نے آؤٹ سورس ٹرینوں میں بھی رعایتیں دینا لازمی قرار دے دیا پرائیویٹ حج اسکیم میں 80 فیصد بکنگ مکمل: عازمین نے 57.5 ارب روپے جمع کروا دیے، وزارتِ مذہبی امور کی ہدایت قومی اسمبلی میں یومِ سیاہ کشمیر پر بھارت کے خلاف مذمتی قرار داد منظور ملتان: زیرتعمیر عمارت کی چھت گرنے سے مزدور ملبے تلے دب گئے، ایک جاں بحق سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، معلوماتی راہداری عوام کو قریب لائےگی: عطا تارڑ وکلاء نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی مخالفت کر دی قصور: 2 نابالغ بچیوں کے زبردستی نکاح کی کوشش ناکام بنا دی گئی آئی سی سی ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی کیلئے پاکستانی سکواڈ کا اعلان سردیوں میں صارفین کو روزانہ صرف 8 گھنٹے گیس ملنے کا امکان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں آج کاروبار کے دوران مثبت رجحان پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا: مریم نواز ایف ڈبلیو او کی کارکردگی انتہائی ناقص، ایوان مطمئن نہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بلاول بھٹو زرداری کا کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ

بچوں کیخلاف جرائم کی روک تھام کیلئے سخت سزائیں کافی نہیں: خاقان شاہنواز

Web Desk

28 June 2026

پاکستانی اداکار و سوشل میڈیا انفلوئنسر خاقان شاہنواز نے ملک میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور حالیہ منتہا کیس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک اہم اور نئی تزویراتی بحث چھیڑ دی ہے۔ انسٹاگرام پر جاری کردہ اپنی ایک خصوصی ویڈیو میں خاقان شاہنواز نے مروجہ عدالتی و انتظامی سزاؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسے سنگین اور ہولناک جرائم کی مستقل روک تھام کے لیے محض سخت سزائیں سنانا یا پھانسی دینا کافی نہیں ہے۔ انہوں نے حالیہ منتہا کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکام نے ایک ملزم کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی اور مجرموں کو سخت ترین سزا دینے کا اعلان بھی کیا، لیکن اس کے باوجود کچھ ہی عرصے کے اندر کمسن بچوں کے ساتھ اسی نوعیت کے مزید افسوس ناک واقعات سامنے آ گئے، جس سے یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا سخت سزائیں واقعی ایسے جرائم کی مؤثر روک تھام کر پا رہی ہیں یا نہیں؟

خاقان شاہنواز کا کہنا ہے کہ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ صرف مجرموں کو سزا دینے تک ہی محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ایسے بھیانک واقعات کی جڑوں میں موجود بنیادی وجوہات اور معاشرتی رویوں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا روایتی معاشرہ جنسی آگاہی، عوامی شعور اور بچوں کے تحفظ جیسے انتہائی حساس اور اہم موضوعات پر کھل کر بات کرنے سے ہمیشہ گریز کرتا ہے، حالانکہ ان مسائل پر مؤثر اور بروقت آگاہی ہی ایسے جرائم کے سدباب میں سب سے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اداکار نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے ہاں معاشرے میں وقتی یا فوری اقدامات اور پاپولسٹ فیصلوں کو تو بہت سراہا جاتا ہے، لیکن طویل مدتی، دیرپا اور مؤثر حل تلاش کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔

انہوں نے مخلصانہ زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے ملک گیر سطح پر باقاعدہ آگاہی مہمات چلانے کے ساتھ ساتھ تمام سرکاری و نجی سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بچوں کی عمر کے مطابق مناسب تعلیم، گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کا شعور فراہم کرنا بھی اس قومی جامع حکمتِ عملی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ اپنے پیغام کے اختتام پر اداکار و انفلوئنسر نے واضح کیا کہ جب تک ہمارا پورا معاشرہ تعلیم، جدید آگاہی اور اجتماعی ذمے داری کے اصولوں کو اپناتے ہوئے حقیقی اور فکری تبدیلی کی جانب پیش رفت نہیں کرے گا، اس وقت تک معصوم بچوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے افسوس ناک اور انسانیت سوز واقعات کی روک تھام کسی صورت ممکن نہیں ہو سکے گی۔