جنگلی جانوروں کے علاج اور ریسکیو کیلیے پاکستان کا پہلا موبائل وائلڈ لائف کلینک
Web Desk
25 June 2026
لاہور: محکمہ جنگلی حیات پنجاب نے جنگلی حیات کے تحفظ اور بیمار یا زخمی جانوروں کی فوری جان بچانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کا پہلا سٹیٹ آف دی آرٹ “موبائل وائلڈ لائف کلینک” تیار کر لیا ہے۔ اس جدید منصوبے کا بنیادی مقصد جنگلات، صحراؤں اور چڑیا گھروں میں موجود بیمار اور زخمی جنگلی جانوروں کو ہسپتال منتقل کیے بغیر، ان کی موجودہ جگہ پر ہی فوری اور جدید ترین طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
لاہور سفاری زو (Lahore Safari Zoo) میں تعینات اس متحرک کلینک کو ایک خاص گاڑی میں تیار کیا گیا ہے، جس کے اندر خون کے نمونوں کے ابتدائی ٹیسٹ کے لیے ایک مختصر لیبارٹری اور معمولی نوعیت کی سرجریز (Operative Procedures) کے لیے تمام ضروری آلات نصب ہیں۔
ڈائریکٹر ویٹرنری سروسز ڈاکٹر رضوان خان نے اس حوالے سے خ بتایا کہ جنگلی جانوروں کو علاج کے لیے روایتی ہسپتالوں میں منتقل کرنا انتہائی مشکل اور بعض اوقات ناممکن ہوتا ہے، کیونکہ منتقلی کے سفر کے دوران جانور شدید ذہنی دباؤ (Stress) کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر اس کلینک میں درج ذیل پورٹیبل، ری چارج ایبل اور جدید ترین آلات فراہم کیے گئے ہیں کلینک کے اندر فیلڈ میں فوری تشخیص کے لیے پورٹیبل ایکسرے (X-Ray)، ڈوپلر الٹراساؤنڈ، ای سی جی (ECG) مشین اور وائٹل مانیٹر موجود ہیں۔ ایمرجنسی میں جانوروں کو سانس کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے گاڑی میں آکسیجن کنسنٹریٹر بھی نصب کیا گیا ہے۔دور دراز کے صحراؤں، پہاڑی سلسلوں اور جنگلات میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اس خصوصی گاڑی کی چھت پر سولر سسٹم (شمسی توانائی) اور ایک ہائی کے وی جنریٹر بھی لگایا گیا ہے۔دور سے قابو پانے یا بے ہوش کرنے کے لیے گاڑی میں جدید ترین ڈارٹ گن (Dart Gun) رکھی گئی ہے، جس کی مدد سے خطرناک جنگلی جانوروں کو محفوظ فاصلے سے ہی دوا دی جا سکے گی۔
ڈاکٹر رضوان خان کے مطابق، یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا موبائل کلینک ہے جس کا دائرہ کار صرف لاہور تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ اسے پنجاب بھر کے تمام چڑیا گھروں، سفاری پارکس، وائلڈ لائف سینٹرز اور کسی بھی ہنگامی ریسکیو آپریشن میں فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس موبائل کلینک کے ساتھ ساتھ ایک مستقل اور جدید “وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر” اور سٹیٹ آف دی آرٹ “وائلڈ لائف اسپتال” بھی قائم کر دیا گیا ہے، جہاں منتقل کیے گئے متعدد زخمی جانوروں کے پیچیدہ آپریشنز اور کامیاب علاج کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کے اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ اس دور رس منصوبے سے پاکستان میں نایاب جنگلی جانوروں کی حادثاتی اموات کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
متعلقہ عنوانات
وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت
16 September 2026
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026
خواتین میں مصنوعی پلکوں کا استعمال، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
15 September 2026
وزن کم کرنے والی ادویات کا خودکشی کے خیالات سے تعلق کا انکشاف
15 September 2026
خیبرپختونخوا: چکن گونیا کے کیسز میں اضافہ، نوشہرہ کے متعدد گاؤں متاثر
15 September 2026
ایڈز کے خاتمے کیلئے علاج کے ساتھ مؤثر آگاہی پر توجہ دینا ہو گی: مصطفیٰ کمال
14 September 2026