LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیہون شریف: گیس پائپ لائن پھٹنے سے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، برطانیہ میں 2 ایرانی شہریوں پر فرد جرم عائد فرانس میں طلبا کا پرتشدد احتجاج، درجنوں سکول بند، پولیس سے جھڑپیں، کئی طالبعلم زخمی بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری مذاکرات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان حج 2027 کیلئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ کا اعلان شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر 3 پولیس افسران ملازمت سے برطرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی ملکی معاشی مسائل کا حل برآمدات بڑھانے میں ہے: محسن نقوی وزیراعظم کا صومالیہ میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کے لواحقین کیلیے امداد کا اعلان آبنائے ہرمز میں کشیدگی، یورو زون میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ایران میں سڑک کنارے بم دھماکا، پاسداران انقلاب کے 5 اہلکار جاں بحق

چین نے دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر بنا کر امریکا سے اعزاز چھین لیا

Web Desk

23 June 2026

چین نے امریکی پابندیوں کے باوجود ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹر کا اعزاز امریکا سے واپس لے لیا ہے۔ عالمی درجہ بندی “ٹاپ 500” میں چین کے “لائن شائن” نامی سپر کمپیوٹر نے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، جسے ہواوے کی چپس، مقامی نیٹ ورکنگ آلات اور چینی سافٹ ویئر کی مدد سے مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کیا گیا ہے۔ چینی صدر کے اس قومی منصوبے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ چین امریکی ہارڈ ویئر کے بغیر بھی جدید ترین ٹیکنالوجی تیار کر سکتا ہے۔

اس سے قبل یہ اعزاز امریکی سپر کمپیوٹر “ایل کیپٹن” (El Capitan) کے پاس تھا جو گزشتہ 18 ماہ سے دنیا کا تیز ترین کمپیوٹر تھا، تاہم “لائن شائن” نے 2.2 ایگزا فلاپس (Exaflops) فی سیکنڈ کی رفتار کے ساتھ امریکی کمپیوٹر کی 1.8 ایگزا فلاپس کی رفتار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اگرچہ چینی چپس انفرادی طور پر امریکی چپس جتنی طاقتور نہیں ہیں، لیکن انہیں زیادہ مؤثر انداز میں مربوط کیا گیا ہے۔ البتہ، یہ سپر کمپیوٹر بجلی کی زیادہ کھپت رکھتا ہے اور یہ 42 میگاواٹ توانائی استعمال کرتا ہے، جو امریکی کمپیوٹر کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔ چین نے اس سے قبل آخری بار 2017 میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا، مگر اس وقت کمپیوٹر میں غیر ملکی پرزے شامل تھے، جبکہ موجودہ کامیابی مکمل طور پر خود انحصاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔