LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیہون شریف: گیس پائپ لائن پھٹنے سے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، برطانیہ میں 2 ایرانی شہریوں پر فرد جرم عائد فرانس میں طلبا کا پرتشدد احتجاج، درجنوں سکول بند، پولیس سے جھڑپیں، کئی طالبعلم زخمی بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری مذاکرات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان حج 2027 کیلئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ کا اعلان شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر 3 پولیس افسران ملازمت سے برطرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی ملکی معاشی مسائل کا حل برآمدات بڑھانے میں ہے: محسن نقوی وزیراعظم کا صومالیہ میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کے لواحقین کیلیے امداد کا اعلان آبنائے ہرمز میں کشیدگی، یورو زون میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ایران میں سڑک کنارے بم دھماکا، پاسداران انقلاب کے 5 اہلکار جاں بحق

مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری

Web Desk

2 October 2026

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے تاریخی مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں قائم “مونال” سمیت دیگر ریسٹورنٹس کو مسمار کرنے کے حوالے سے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے پر دائر نظرثانی درخواستوں کا 44 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا 21 اگست 2024 اور 10 ستمبر 2024 کا ریویو فیصلہ اور ریسٹورنٹس کو مسمار کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔

آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ نیشنل پارک کی حدود میں لیز، ملکیت اور کرائے کے تنازعات کا فیصلہ اب سول کورٹ تمام تر ثبوت اور شہادتیں ریکارڈ کرنے کے بعد کرے گی۔ فیصلے کے مطابق مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں عوام کی تفریح، ریسٹ ہاؤسز، ہوٹلز یا عمارتوں کی تعمیر پر کوئی مطلق پابندی نہیں ہے، تاہم تمام تر تعمیرات کو ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کے مطابق ہونا لازم ہوگا۔ عدالت نے وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے پاس جمع شدہ کرائے کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سول عدالت کو تمام متعلقہ مقدمات کو یکجا کر کے جلد از جلد فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔