ایران یورینیم باہر بھیجنے کے بجائے افزودگی کی سطح کم کرے گا: اسحاق ڈار
Web Desk
23 June 2026
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انتہائی اہم اور خصوصی انٹرویو میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والے تاریخی مذاکرات کے پسِ پردہ حقائق اور اہم تزویراتی خدوخال سے پردہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ اہم سفارتی عمل چند روز قبل ہی شروع ہو سکتا تھا، تاہم لبنان پر حالیہ اسرائیلی حملوں نے اس پورے عمل کو شدید متاثر کیا اور ایک وقت ایسا آیا جب دونوں وفود کو میز پر لانے کی کوششیں تقریباً رک گئی تھیں۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ کامیاب مفاہمتی کوششوں کے بعد تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع ہو چکے ہیں، جو ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر عملدرآمد کے لیے سفارتی کوششوں کا دوسرا مرحلہ ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی پر الگ الگ ورکنگ گروپس (Working Groups) فعال انداز میں کام کر رہے ہیں۔ معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے یورینیئم کو ملک سے باہر بھیجنے کے بجائے اس کی افزودگی (Uranium Enrichment) کی شرح کو کم کرنے پر آمادہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ لبنان کی تزویراتی صورتحال کو بھی اس مذاکراتی ایجنڈے کا لازمی حصہ بنایا گیا ہے۔ نائب وزیراعظم نے حتمی ڈیل کے ٹائم فریم کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ بعض تیکنیکی معاملات کو طے کرنے کے لیے 30 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر ایک جامع اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کا ٹائم فریم رکھا گیا ہے۔ تزویراتی اور بحری تجارتی راستے ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) کے حوالے سے طے پایا ہے کہ اگلے 60 روز تک تمام تجارتی جہاز بغیر کسی اضافی ٹیرف (Tariff) کے وہاں سے گزر سکتے ہیں۔ ان جہازوں کو صرف روایتی اسٹینڈرڈ نیوی گیشن یا سروس فیس ہی ادا کرنا ہوگی۔ اسحاق ڈار نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پاک-امریکہ-ایران مذاکراتی عمل کی ذاتی طور پر رہنمائی کی ہے۔ پاکستان اس پورے عمل میں ایک مرکزی سہولت کار (Facilitator) کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات (UAE) اس اہم ترین ثالثی عمل کی بھرپور سیاسی و سفارتی حمایت کر رہے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے اپنے انٹرویو کا اختتام کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اگرچہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ انتہائی سخت اور پیچیدہ ہو سکتا ہے، لیکن ایک حتمی اور پائیدار امن معاہدہ بالکل قابلِ حصول ہے کیونکہ اس پوری ڈیل میں کوئی بھی منفی یا متنازع نکتہ شامل نہیں ہے۔
متعلقہ عنوانات
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کا تعزیتی جلوس تہران میں رواں دواں، لاکھوں افراد شریک
6 July 2026
امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو
6 July 2026
موٹروے پولیس کی بروقت کارروائی، جلتی بس سے مسافروں کو ریسکیو کر لیا
6 July 2026
شام داخل ہونے کی کوشش میں 100 سے زائد اسرائیلی آبادکار گرفتار
6 July 2026
سعودی و بحرینی وزرائے خارجہ کی ملاقات، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر گفتگو
6 July 2026
حماس کی محمد باقر قالیباف سے ملاقات، خطے کی صورتحال اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال
6 July 2026
ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان
6 July 2026
اسرائیل کے طبی امداد تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے پر 4 ماہ کا فلسطینی بچہ شہید
6 July 2026