LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عوام حکمرانوں کی عیاشیوں کا بوجھ اٹھا رہے، ملک میں دہرا نظام نہیں چل سکتا: حافظ نعیم وزیراعظم سے سعودی کاروباری وفد کی ملاقات، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال امریکی صدر کا آبنائے ہرمز سے تمام سمندری بارودی سرنگیں ہٹانے کا دعویٰ شہباز شریف 31 اگست کو کرغزستان کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوں گے آزاد کشمیراسمبلی: طارق فاروق سپیکر، احمد رضا قادری ڈپٹی سپیکر منتخب، حلف اٹھا لیا محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو بانی پی ٹی آئی کی رہائی عدالتوں کے ذریعے ہی ہوگی، ججز کے فیصلوں سے امید پیدا ہوئی: علیمہ خان فیلڈ مارشل کا دورہ کامیاب، نتائج جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے: ایرانی صدارتی دفتر حکومت نے خلوص نیت سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا: رانا ثناء اللہ 27 اگست سے مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، پی ٹی آئی کی توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات دور عمران خان کا علاج: جمائما کی جانب سے برطانوی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے مداخلت کی درخواست غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں راضی نامہ بھی ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا: عدالت امریکا کا H-1B ویزا کیپ پٹیشنز پر ایک لاکھ ڈالر سے زائد فیس عائد کرنے کی تجویز کا اعلان عائشہ وہاب نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست جیت لی، کانگریس کا حصہ بننے والی پہلی افغان امریکی خاتون

ایران یورینیم باہر بھیجنے کے بجائے افزودگی کی سطح کم کرے گا: اسحاق ڈار

Web Desk

23 June 2026

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انتہائی اہم اور خصوصی انٹرویو میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والے تاریخی مذاکرات کے پسِ پردہ حقائق اور اہم تزویراتی خدوخال سے پردہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ اہم سفارتی عمل چند روز قبل ہی شروع ہو سکتا تھا، تاہم لبنان پر حالیہ اسرائیلی حملوں نے اس پورے عمل کو شدید متاثر کیا اور ایک وقت ایسا آیا جب دونوں وفود کو میز پر لانے کی کوششیں تقریباً رک گئی تھیں۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ کامیاب مفاہمتی کوششوں کے بعد تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع ہو چکے ہیں، جو ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر عملدرآمد کے لیے سفارتی کوششوں کا دوسرا مرحلہ ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی پر الگ الگ ورکنگ گروپس (Working Groups) فعال انداز میں کام کر رہے ہیں۔ معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے یورینیئم کو ملک سے باہر بھیجنے کے بجائے اس کی افزودگی (Uranium Enrichment) کی شرح کو کم کرنے پر آمادہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ لبنان کی تزویراتی صورتحال کو بھی اس مذاکراتی ایجنڈے کا لازمی حصہ بنایا گیا ہے۔ نائب وزیراعظم نے حتمی ڈیل کے ٹائم فریم کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ بعض تیکنیکی معاملات کو طے کرنے کے لیے 30 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر ایک جامع اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کا ٹائم فریم رکھا گیا ہے۔ تزویراتی اور بحری تجارتی راستے ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) کے حوالے سے طے پایا ہے کہ اگلے 60 روز تک تمام تجارتی جہاز بغیر کسی اضافی ٹیرف (Tariff) کے وہاں سے گزر سکتے ہیں۔ ان جہازوں کو صرف روایتی اسٹینڈرڈ نیوی گیشن یا سروس فیس ہی ادا کرنا ہوگی۔ اسحاق ڈار نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پاک-امریکہ-ایران مذاکراتی عمل کی ذاتی طور پر رہنمائی کی ہے۔ پاکستان اس پورے عمل میں ایک مرکزی سہولت کار (Facilitator) کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات (UAE) اس اہم ترین ثالثی عمل کی بھرپور سیاسی و سفارتی حمایت کر رہے ہیں۔

نائب وزیراعظم نے اپنے انٹرویو کا اختتام کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اگرچہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ انتہائی سخت اور پیچیدہ ہو سکتا ہے، لیکن ایک حتمی اور پائیدار امن معاہدہ بالکل قابلِ حصول ہے کیونکہ اس پوری ڈیل میں کوئی بھی منفی یا متنازع نکتہ شامل نہیں ہے۔