بائنری اسٹار سسٹم سے متعلق ایک نادر دریافت
Web Desk
20 June 2026
واشنگٹن: ماہرینِ فلکیات نے خلا کی گہرائیوں میں ستاروں کے ملبے کی ایک ایسی نایاب موجودگی دریافت کی ہے، جو ممکنہ طور پر کبھی ایک ساتھ رہنے والے دو ستاروں کی مشترکہ باقیات ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے ناسا (NASA) کی ‘فیرمی گیما-رے اسپیس ٹیلی اسکوپ’ سے حاصل کردہ ڈیٹا اور مشاہدات کی مدد سے یہ حیرت انگیز نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سپرنووا (ستارے کے پھٹنے) کے ملبے کے یہ دو الگ الگ بادل دراصل کبھی ایک ہی ‘بائنری اسٹار سسٹم’ (دوہرا ستاروی نظام) کا حصہ تھے۔ واضح رہے کہ بائنری سسٹم میں دو ستارے مضبوط کششِ ثقل کی وجہ سے ایک دوسرے کے گرد گھومتے ہیں اور ان کا مرکزِ گردش مشترک ہوتا ہے۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ طبعیات سے وابستہ پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق مِلٹائڈس میکائلیڈِس نے اس بڑی فلکیاتی دریافت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان دونوں باقیات کے درمیان بے شمار حیرت انگیز اور غیر معمولی مماثلتیں ریکارڈ کی گئی ہیں، جس کی بنیاد پر اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان کا آپس میں گہرا اور قدیم تعلق ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر سائنسی برادری میں یہ مفروضہ مکمل طور پر درست ثابت ہو گیا، تو یہ فلکیات کی تاریخ کی پہلی ایسی معلوم مثال ہوگی جس میں ایک ہی بائنری نظام کے اندر موجود دونوں ستاروں نے بیک وقت سپرنووا دھماکوں کا سامنا کیا ہو اور ان کی باقیات اب بھی ایک ساتھ موجود ہوں۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان میں اب ڈالر کمانا بہت آسان ہوگیا، فیس بک نے بہت بڑی خوشخبری سنا دی
20 June 2026
مصنوعی کششِ ثقل والے خلائی اسٹیشنز حقیقت کے قریب تر
20 June 2026
پی ٹی اے کی ڈیجیٹل سکیورٹی بہتر بنانے کیلئے اہم ایڈوائزری جاری
20 June 2026
امارات میں 15 برس سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی
19 June 2026
شزا فاطمہ کا پی ٹی آر او ترمیمی بل 2026 میں تبدیلی کا اشارہ
19 June 2026
مصنوعی ذہانت مزدوروں کی کمی پیدا کرے گی: جیف بیزوس
18 June 2026
واٹس ایپ کا نیا فیچر متعارف ہونے کا امکان، ایپ کھولے بغیر وائس نوٹس بھیجنا ممکن ہوگا
18 June 2026
راکٹ سے خارج ہونیوالے دھویں سے متعلق سائنس دانوں کا انتباہ
17 June 2026