بائنری اسٹار سسٹم سے متعلق ایک نادر دریافت
Web Desk
20 June 2026
واشنگٹن: ماہرینِ فلکیات نے خلا کی گہرائیوں میں ستاروں کے ملبے کی ایک ایسی نایاب موجودگی دریافت کی ہے، جو ممکنہ طور پر کبھی ایک ساتھ رہنے والے دو ستاروں کی مشترکہ باقیات ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے ناسا (NASA) کی ‘فیرمی گیما-رے اسپیس ٹیلی اسکوپ’ سے حاصل کردہ ڈیٹا اور مشاہدات کی مدد سے یہ حیرت انگیز نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سپرنووا (ستارے کے پھٹنے) کے ملبے کے یہ دو الگ الگ بادل دراصل کبھی ایک ہی ‘بائنری اسٹار سسٹم’ (دوہرا ستاروی نظام) کا حصہ تھے۔ واضح رہے کہ بائنری سسٹم میں دو ستارے مضبوط کششِ ثقل کی وجہ سے ایک دوسرے کے گرد گھومتے ہیں اور ان کا مرکزِ گردش مشترک ہوتا ہے۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ طبعیات سے وابستہ پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق مِلٹائڈس میکائلیڈِس نے اس بڑی فلکیاتی دریافت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان دونوں باقیات کے درمیان بے شمار حیرت انگیز اور غیر معمولی مماثلتیں ریکارڈ کی گئی ہیں، جس کی بنیاد پر اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان کا آپس میں گہرا اور قدیم تعلق ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر سائنسی برادری میں یہ مفروضہ مکمل طور پر درست ثابت ہو گیا، تو یہ فلکیات کی تاریخ کی پہلی ایسی معلوم مثال ہوگی جس میں ایک ہی بائنری نظام کے اندر موجود دونوں ستاروں نے بیک وقت سپرنووا دھماکوں کا سامنا کیا ہو اور ان کی باقیات اب بھی ایک ساتھ موجود ہوں۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان
2 October 2026
گوگل نے نیا طاقتور اے آئی ماڈل ’جیمنائی 4 آرگون‘ متعارف کرا دیا
2 October 2026
امریکی حکومت کا نیا AI پورٹل ‘America.gov’ لانچ، جیمنائی اور گرک ماڈلز سے لیس چیٹ بوٹ متعارف
2 October 2026
دبئی میں بلاک چین لائف 2026ء، کرپٹو اور اے آئی دنیا کا بڑا اجتماع
1 October 2026
سائنسدان 3 لاکھ 15 ہزار سال قدیم انسان کا ڈیجیٹل چہرہ تشکیل دینے میں کامیاب
1 October 2026
بچوں میں سوشل میڈیا کا استعمال روکنے اور عمر کی تصدیق کا اختیار نہیں: پی ٹی اے
1 October 2026
فولڈ ایبل آئی فون کی فروخت سے متعلق اہم انکشاف!
1 October 2026
پاکستان میں G5 کی اوسط ڈاؤن لوڈ سپیڈ 127.74 ایم بی پی ایس ریکارڈ
30 September 2026