LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے خلاف کشیدگی بڑھائی تو اسرائیل خود کو تنہا پائے گا: ٹرمپ کا نیتن یاہو کو پیغام گلگت بلتستان انتخابات: پیپلز پارٹی 10، آزاد امیدوار 7 اور ن لیگ 4 نشستوں پر کامیاب گلگت بلتستان میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحاد سے حکومت سازی کا امکان، پاور شیئرنگ فارمولا طے نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں دفاع کیلئے 2665 ارب روپے رکھنے کی تجویز خیبرپختونخوا کو اپنی گیس کی پیداوار سے50فیصد بھی نہیں دیا جاتا : سہیل آفریدی وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، نئی تاریخ کا اعلان جلد متوقع امریکی صدر ٹرمپ ٹی وی اینکر پر شدید برہم ، انٹرویو ادھورا چھوڑ دیا وزیراعظم اور صدر کی اہم ملاقات، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں بجٹ تجاویز پر اتفاق شاہین آفریدی کو ٹیسٹ ٹیم سے مستقل طور پر ڈراپ کرنے کا فیصلہ فیفا ورلڈ کپ 2026: نورا فتیحی کا نیا گانا ریلیز، افتتاحی تقریب میں اسٹیج پر جلوہ بھی دکھائیں گی سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کی آبی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار وزیراعظم کی گلگت میں پیپلزپارٹی کی فتح پر صدر زرداری اور بلاول کو مبارکباد بجٹ پر تحفظات دور کرنے کیلئے صدر مملکت اور وزیر اعظم کی ملاقات آج ہوگی امریکا حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا براہ راست ذمہ دار، واشنگٹن اسرائیل کی پشت پناہی بند کرے: ایران جی ایس پی پلس سہولت کو خطرہ، حکومت اصلاحات پر توجہ دے: شاہ محمود

تاپسی پنو نے بالی ووڈ میں عمر کی بنیاد پر امتیازی سلوک پر آواز اٹھا دی

Web Desk

8 June 2026

ممبئی: بالی ووڈ کی ورسٹائل اور بیباک اداکارہ تاپسی پنو نے بھارتی فلم انڈسٹری میں خواتین کے ساتھ عمر کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک (ایج ازم) کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے اسے انڈسٹری کا ایک بڑا دہرا معیار قرار دے دیا ہے۔

اپنی آنے والی نیٹ فلکس ایکشن فلم “گاندھاری” کی ریلیز سے قبل بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک مروجہ انٹرویو میں تاپسی پنو نے خواتین کو درپیش چیلنجز پر کھل کر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ ہو یا ساؤتھ فلم انڈسٹری، 30 سال کی عمر عبور کرتے ہی اداکاراؤں کے لیے اچھے اور مرکزی کرداروں کے مواقع مینوئل کے مطابق محدود ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

اداکارہ نے فلمی نگری میں اپنے مروجہ کیریئر کے سفر کی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا”میں ہندی فلم انڈسٹری میں اس وقت آئی جب میری عمر تقریباً 25 سال تھی۔ پھر تین سے چار سال تو صرف اچھے کردار حاصل کرنے کی مینوئل جدوجہد میں گزر جاتے ہیں۔ جب تک آپ انڈسٹری میں اپنی حقیقی شناخت بناتے ہیں، آپ 30 سال کی عمر عبور کر چکے ہوتے ہیں؛ اور جیسے ہی آپ اس عمر کو پہنچتے ہیں، تو یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ رومانوی (Romantic) فلموں کے لیے زیادہ جوان نہیں رہیں، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔”

تاپسی کے مطابق، کہانیوں میں کئی ایسے کردار ہوتے ہیں جن میں کسی کم عمر اداکارہ کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود فلم ساز اور پروڈیوسرز مینوئل گائیڈ لائنز کو پسِ پشت ڈال کر صرف نوجوان چہروں کو ترجیح دیتے ہیں۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے مرد اداکاروں (ہیروز) کو ملنے والی رعایت پر کڑی تنقید کی تاپسی نے واضح کیا کہ مرد اداکاروں کے معاملے میں ایسا رویہ یا عمر کی قید کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ وہ 50 سال کی عمر کے بعد بھی جوان ہیرو کے کردار کرتے ہیں۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ صلاحیت یا ٹیلنٹ کا نہیں بلکہ فلم سازوں کی سوچ اور روایتی تاثر کا ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود انڈسٹری میں یہ مروجہ رویہ آج بھی پوری طرح موجود ہے۔