جی ایس پی پلس سہولت کو خطرہ، حکومت اصلاحات پر توجہ دے: شاہ محمود
Web Desk
8 June 2026
لاہور: کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیر خارجہ اور تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے خبردار کیا ہے کہ اگر انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق اور گورننس اصلاحات کے حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی، تو پاکستان کے لیے یورپی یونین کی جانب سے دی گئی ‘جی ایس پی پلس’ (GSP+) تجارتی سہولت شدید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اپنے وکیل رانا مدثر عمر کے ذریعے جیل سے جاری کردہ ایک مروجہ تفصیلی بیان میں سابق وزیر خارجہ نے ملکی معیشت اور برآمدات کے حوالے سے یورپی یونین کے ساتھ موجودہ پوزیشن کا کچا چٹھا سامنے رکھ دیا ہے۔شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور یورپی یونین کے تجارتی تعلقات کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے سال 2025 کے سائنسی اعداد و شمار پیش کیے یورپی یونین پاکستان کا ایک انتہائی اہم تجارتی شراکت دار ہے، جہاں سال 2025 میں پاکستان نے یورپی ممالک کو 8.7 ارب یورو کی ریکارڈ برآمدات کیں۔جی ایس پی پلس کا حصہ: ان مجموعی برآمدات میں سے 7 ارب یورو کی برآمدات خالصتاً جی ایس پی پلس سہولت کے مروجہ مینوئل کے تحت ہی ممکن ہو سکیں، جو ملکی ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔سابق وزیر خارجہ نے مستقبل کے مینوئل خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا”موجودہ جی ایس پی پلس سہولت سال 2027 میں ختم ہو جائے گی، جبکہ یورپی یونین پاکستان سے انسانی حقوق، لیبر لاز اور گورننس کے شعبوں میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اگلے مرحلے میں اس سہولت کے دوبارہ حصول کے لیے پاکستان کو پہلے سے کہیں زیادہ سخت عالمی شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔”
انہوں نے یاد دلایا کہ جی ایس پی پلس کا حصول کوئی آسان کام نہیں تھا، بلکہ اس کے لیے ماضی میں عالمی سطح پر بھرپور سفارتی کوششیں کی گئیں۔ اس مقصد کے لیے سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے بھی رابطہ کیا گیا تھا تاکہ یورپی ممالک میں پاکستان کے حق میں لابنگ کی جا سکے۔ اس مینوئل گائیڈ مشن میں سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور اور پاکستانی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان (Exporters) نے بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔شاہ محمود قریشی نے یورپی حلقوں میں پائے جانے والے تحفظات کی پوزیشن کو واضح کرتے ہوئے کہا اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق یورپی یونین کی تشویش کو ریاست کو انتہائی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی صحافتی تنظیموں کی جانب سے پیکا (Prevention of Electronic Crimes Act) کو “کالا قانون” قرار دیے جانے پر یورپی یونین کے مروجہ حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔اپنے بیان کے اختتام پر سابق وزیر خارجہ نے حکومت کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے آئینی عدالت میں دائر درخواستیں، جبری گمشدگیوں کے پے در پے الزامات اور ملک میں کمزور طرزِ حکمرانی (Weak Governance) کے معاملات اس وقت یورپی یونین کی مانیٹرنگ ٹیموں کی توجہ کا بنیادی مرکز ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر فوری طور پر ان مروجہ معاملات پر توجہ دے، تاکہ پاکستان کروڑوں ڈالر مالیت کی جی ایس پی پلس سہولت سے محروم ہونے کے بڑے معاشی مینوئل خطرے سے بال بال بچ سکے۔
متعلقہ عنوانات
گلگت بلتستان میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحاد سے حکومت سازی کا امکان، پاور شیئرنگ فارمولا طے
8 June 2026
نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں دفاع کیلئے 2665 ارب روپے رکھنے کی تجویز
8 June 2026
خیبرپختونخوا کو اپنی گیس کی پیداوار سے50فیصد بھی نہیں دیا جاتا : سہیل آفریدی
8 June 2026
وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، نئی تاریخ کا اعلان جلد متوقع
8 June 2026
امریکی صدر ٹرمپ ٹی وی اینکر پر شدید برہم ، انٹرویو ادھورا چھوڑ دیا
8 June 2026
وزیراعظم اور صدر کی اہم ملاقات، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں بجٹ تجاویز پر اتفاق
8 June 2026
شاہین آفریدی کو ٹیسٹ ٹیم سے مستقل طور پر ڈراپ کرنے کا فیصلہ
8 June 2026
فیفا ورلڈ کپ 2026: نورا فتیحی کا نیا گانا ریلیز، افتتاحی تقریب میں اسٹیج پر جلوہ بھی دکھائیں گی
8 June 2026