LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گلگت بلتستان میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحاد سے حکومت سازی کا امکان، پاور شیئرنگ فارمولا طے نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں دفاع کیلئے 2665 ارب روپے رکھنے کی تجویز خیبرپختونخوا کو اپنی گیس کی پیداوار سے50فیصد بھی نہیں دیا جاتا : سہیل آفریدی وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، نئی تاریخ کا اعلان جلد متوقع امریکی صدر ٹرمپ ٹی وی اینکر پر شدید برہم ، انٹرویو ادھورا چھوڑ دیا وزیراعظم اور صدر کی اہم ملاقات، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں بجٹ تجاویز پر اتفاق شاہین آفریدی کو ٹیسٹ ٹیم سے مستقل طور پر ڈراپ کرنے کا فیصلہ فیفا ورلڈ کپ 2026: نورا فتیحی کا نیا گانا ریلیز، افتتاحی تقریب میں اسٹیج پر جلوہ بھی دکھائیں گی سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کی آبی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار وزیراعظم کی گلگت میں پیپلزپارٹی کی فتح پر صدر زرداری اور بلاول کو مبارکباد بجٹ پر تحفظات دور کرنے کیلئے صدر مملکت اور وزیر اعظم کی ملاقات آج ہوگی امریکا حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا براہ راست ذمہ دار، واشنگٹن اسرائیل کی پشت پناہی بند کرے: ایران جی ایس پی پلس سہولت کو خطرہ، حکومت اصلاحات پر توجہ دے: شاہ محمود میدانی علاقوں میں شدید ہیٹ ویو، شمالی اضلاع میں گلیشئرز پگھلنے سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا بڑا خطرہ قومی اقتصادی کونسل کا آج ہونے والا اجلاس مؤخر، کل ہونے کا امکان

سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کی آبی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار

Web Desk

8 June 2026

فرانس کے مروجہ اور معتبر جریدے ‘لی موند’ (Le Monde) نے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کی معطلی اور بھارت کی یکطرفہ آبی جارحیت پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں اس اقدام کو جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کے لیے ایک انتہائی خطرناک موڑ قرار دیا گیا ہے۔

فرانسیسی جریدے نے اپنی مروجہ بین الاقوامی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کے بعد پانی کو پاکستان کے خلاف ایک سیاسی دباؤ اور ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ جریدے نے بین الاقوامی قوانین کا مینوئل حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تاریخی معاہدہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا، اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی صرف اور صرف دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) کے باہمی اتفاقِ رائے سے ہی ممکن ہے۔رپورٹ کے مطابق، مستقل ثالثی عدالت (Permanent Court of Arbitration) نے بھی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر بدستور نافذ العمل ہے۔ جریدے نے مینوئل گائیڈ کے طور پر لکھا کہ بھارت کی جانب سے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا (آبی اعداد و شمار) کی جان بوجھ کر عدم فراہمی کے باعث پاکستان کے لیے سیلاب کی پیشگی وارننگ کا سسٹم شدید متاثر ہو رہا ہے، جو انسانی جانوں کے لیے بڑا مروجہ خطرہ ہے۔’لی موند’ نے بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں پاکستانی پنجاب میں آنے والی تباہی کے سائنسی اور انسانی نقصانات کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے:کسان اچانک آنے والے سیلاب، فصلوں کی مکمل تباہی اور زرخیز زمینوں پر ریت کی موٹی تہہ جم جانے کے باعث شدید معاشی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔دریائے چناب کے کناروں پر آباد مروجہ خاندانوں نے اچانک سیلابی ریلوں کے باعث اپنے مویشی، کھڑی فصلیں اور گھروں کا تمام قیمتی سامان کھو دیا ہے۔جریدے نے عالمی سطح پر پاکستان کے اصولی مؤقف کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان پانی کی بندش یا دریاؤں کا رخ موڑنے کی کسی بھی بھارتی کوشش کو اپنے خلاف سنگین ترین فوجی اشتعال انگیزی تصور کرے گا۔

رپورٹ میں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی آمیز بیانات کو پانی کے سیاسی استعمال کی بدترین مثال کے طور پر پیش کیا گیا، جسے پاکستان نے مروجہ طور پر “واٹر ٹیررازم” (آبی دہشت گردی) قرار دیا تھا۔ ‘لی موند’ نے تسلیم کیا کہ پاکستان کا یہ مؤقف محض سیاسی نہیں بلکہ خالصتاً انسانی حقوق، زراعت، خوراک کی سکیورٹی اور بقا کا معاملہ ہے۔فرانسیسی جریدے نے پاک بھارت آبی پوزیشن کے سائنسی خدوخال پر روشنی ڈالتے ہوئے دو اہم مروجہ حقائق سامنے رکھے پاکستان کی 80 فیصد سے زائد زراعت کا مینوئل انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے، اس لیے یہ نظام پاکستان کی معیشت اور آبادی کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے۔بھارت خود چین کے ہاتھوں بالائی آبی دباؤ (Upper Riparian Pressure) سے شدید پریشان ہے۔ چین کے ساتھ دریائے برہم پترا کے معاملے پر بھارت مینوئل طور پر خود وہی خطرہ محسوس کرتا ہے، جو پاکستان اس وقت بھارت کی طرف سے محسوس کر رہا ہے۔رپورٹ کے مینوئل اختتام پر کہا گیا ہے کہ اب یہ آبی تنازعہ محض ایک دوطرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ موسمیاتی تبدیلی (Climate Change)، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلاؤ اور آبادی میں دھماکہ خیز اضافے کے باعث پورے جنوبی ایشیا کی سلامتی اور ماحولیات کا ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔

‘لی موند’ نے زور دیا کہ آبی ڈیٹا کی شفاف اور بروقت فراہمی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ جریدے نے پاکستانی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی مظلومانہ آواز کو عالمی ایوانوں تک پہنچا دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ بھارت کی یہ یکطرفہ روش بین الاقوامی دریائی قوانین اور نچلے بہاؤ کے حقوق (Lower Riparian Rights) کے لیے ایک انتہائی مروجہ اور خطرناک مثال بن جائے گی۔ اس رپورٹ کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کا یہ مینوئل مؤقف انتہائی مضبوط ہوا ہے کہ پانی کو کبھی بھی جنگ، سیاسی دباؤ یا انتقام کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔