سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کی آبی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار
Web Desk
8 June 2026
فرانس کے مروجہ اور معتبر جریدے ‘لی موند’ (Le Monde) نے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کی معطلی اور بھارت کی یکطرفہ آبی جارحیت پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں اس اقدام کو جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کے لیے ایک انتہائی خطرناک موڑ قرار دیا گیا ہے۔
فرانسیسی جریدے نے اپنی مروجہ بین الاقوامی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کے بعد پانی کو پاکستان کے خلاف ایک سیاسی دباؤ اور ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ جریدے نے بین الاقوامی قوانین کا مینوئل حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تاریخی معاہدہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا، اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی صرف اور صرف دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) کے باہمی اتفاقِ رائے سے ہی ممکن ہے۔رپورٹ کے مطابق، مستقل ثالثی عدالت (Permanent Court of Arbitration) نے بھی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر بدستور نافذ العمل ہے۔ جریدے نے مینوئل گائیڈ کے طور پر لکھا کہ بھارت کی جانب سے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا (آبی اعداد و شمار) کی جان بوجھ کر عدم فراہمی کے باعث پاکستان کے لیے سیلاب کی پیشگی وارننگ کا سسٹم شدید متاثر ہو رہا ہے، جو انسانی جانوں کے لیے بڑا مروجہ خطرہ ہے۔’لی موند’ نے بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں پاکستانی پنجاب میں آنے والی تباہی کے سائنسی اور انسانی نقصانات کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے:کسان اچانک آنے والے سیلاب، فصلوں کی مکمل تباہی اور زرخیز زمینوں پر ریت کی موٹی تہہ جم جانے کے باعث شدید معاشی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔دریائے چناب کے کناروں پر آباد مروجہ خاندانوں نے اچانک سیلابی ریلوں کے باعث اپنے مویشی، کھڑی فصلیں اور گھروں کا تمام قیمتی سامان کھو دیا ہے۔جریدے نے عالمی سطح پر پاکستان کے اصولی مؤقف کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان پانی کی بندش یا دریاؤں کا رخ موڑنے کی کسی بھی بھارتی کوشش کو اپنے خلاف سنگین ترین فوجی اشتعال انگیزی تصور کرے گا۔
رپورٹ میں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی آمیز بیانات کو پانی کے سیاسی استعمال کی بدترین مثال کے طور پر پیش کیا گیا، جسے پاکستان نے مروجہ طور پر “واٹر ٹیررازم” (آبی دہشت گردی) قرار دیا تھا۔ ‘لی موند’ نے تسلیم کیا کہ پاکستان کا یہ مؤقف محض سیاسی نہیں بلکہ خالصتاً انسانی حقوق، زراعت، خوراک کی سکیورٹی اور بقا کا معاملہ ہے۔فرانسیسی جریدے نے پاک بھارت آبی پوزیشن کے سائنسی خدوخال پر روشنی ڈالتے ہوئے دو اہم مروجہ حقائق سامنے رکھے پاکستان کی 80 فیصد سے زائد زراعت کا مینوئل انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے، اس لیے یہ نظام پاکستان کی معیشت اور آبادی کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے۔بھارت خود چین کے ہاتھوں بالائی آبی دباؤ (Upper Riparian Pressure) سے شدید پریشان ہے۔ چین کے ساتھ دریائے برہم پترا کے معاملے پر بھارت مینوئل طور پر خود وہی خطرہ محسوس کرتا ہے، جو پاکستان اس وقت بھارت کی طرف سے محسوس کر رہا ہے۔رپورٹ کے مینوئل اختتام پر کہا گیا ہے کہ اب یہ آبی تنازعہ محض ایک دوطرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ موسمیاتی تبدیلی (Climate Change)، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلاؤ اور آبادی میں دھماکہ خیز اضافے کے باعث پورے جنوبی ایشیا کی سلامتی اور ماحولیات کا ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔
‘لی موند’ نے زور دیا کہ آبی ڈیٹا کی شفاف اور بروقت فراہمی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ جریدے نے پاکستانی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی مظلومانہ آواز کو عالمی ایوانوں تک پہنچا دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ بھارت کی یہ یکطرفہ روش بین الاقوامی دریائی قوانین اور نچلے بہاؤ کے حقوق (Lower Riparian Rights) کے لیے ایک انتہائی مروجہ اور خطرناک مثال بن جائے گی۔ اس رپورٹ کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کا یہ مینوئل مؤقف انتہائی مضبوط ہوا ہے کہ پانی کو کبھی بھی جنگ، سیاسی دباؤ یا انتقام کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
متعلقہ عنوانات
گلگت بلتستان میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحاد سے حکومت سازی کا امکان، پاور شیئرنگ فارمولا طے
8 June 2026
نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں دفاع کیلئے 2665 ارب روپے رکھنے کی تجویز
8 June 2026
خیبرپختونخوا کو اپنی گیس کی پیداوار سے50فیصد بھی نہیں دیا جاتا : سہیل آفریدی
8 June 2026
وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، نئی تاریخ کا اعلان جلد متوقع
8 June 2026
امریکی صدر ٹرمپ ٹی وی اینکر پر شدید برہم ، انٹرویو ادھورا چھوڑ دیا
8 June 2026
وزیراعظم اور صدر کی اہم ملاقات، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں بجٹ تجاویز پر اتفاق
8 June 2026
شاہین آفریدی کو ٹیسٹ ٹیم سے مستقل طور پر ڈراپ کرنے کا فیصلہ
8 June 2026
فیفا ورلڈ کپ 2026: نورا فتیحی کا نیا گانا ریلیز، افتتاحی تقریب میں اسٹیج پر جلوہ بھی دکھائیں گی
8 June 2026