LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت کا سانحہ پمز کے لواحقین کیلئے فی کس 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان یورپ کو اپنے دفاع کی زیادہ ذمہ داری خود سنبھالنا ہوگی، امریکا کا واضح پیغام پابندیوں کے باوجود تیل کی عالمی منڈیوں تک ترسیل جاری ہے، ایرانی وزیر پٹرولیم اسرائیلی فوج کو فنڈز کی کمی کا سامنا، جنگی تیاری متاثر ہونے کا اعتراف امریکی طیارہ بردار جہاز تھیوڈور روز ویلٹ مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ امریکا نے کارروائی کی تو ایسا نقصان پہنچائیں گے جو تاریخ میں یاد رہے گا، محسن رضائی ایلیٹ سینٹر میں 2 اے ایس آئی دوران دوڑ جاں بحق ، ایک اہلکار ہسپتال منتقل حمزہ شہباز سے سابق و موجودہ اراکین اسمبلی اور سینیٹرز کی اہم ملاقاتیں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا جماعت اسلامی کا 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 4 مبینہ دہشت گرد ہلاک ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 8 کروڑ 13 لاکھ ڈالر کا اضافہ ایرانی صدر کی اسلامی ممالک کے درمیان عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز ایران کیساتھ فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے: ترجمان وائٹ ہاؤس کے پی میں شعبۂ انصاف کیلئے اب تک کا سب سے زیادہ بجٹ مختص، چیف جسٹس کا اظہار اطمینان

پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم شراکت دار، علاقائی عدم استحکام چیلنج ہے: امریکی میڈیا

Web Desk

5 June 2026

واشنگٹن/اسلام آباد: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایک بہت بڑی اور تاریخی پیشرفت ہوئی ہے، جس کے بعد پاکستان موجودہ ٹرمپ انتظامیہ کا ایک اہم اور غیر متوقع شراکت دار بن کر ابھرا ہے۔

امریکی میڈیا ادارے ‘ووکس’ (Vox) کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے سال 2026 کے امریکہ-ایران تنازع میں ایک کلیدی اور تاریخی سفارتی ثالث (Mediator) کے طور پر سامنے آ کر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست رابطوں، جنگ بندی اور باقاعدہ مذاکراتی عمل کو ممکن بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹ میں پاکستان کی اس غیر معمولی سفارتی کامیابی کے حوالے سے درج ذیل اہم ترین انکشافات کیے گئے ہیں ووکس کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے ان انتہائی حساس سفارتی کوششوں کی خود آگے بڑھ کر قیادت کی ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان سال 1979 کے انقلابی واقعے کے بعد سے اب تک کے سب سے اعلیٰ ترین سطح کے براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کا اعزاز حاصل کیا۔ واشنگٹن اور تہران دونوں ہی دارالحکومت اب پاکستان کو ایک انتہائی قابلِ اعتماد رابطہ کار اور غیر جانبدار ثالث تسلیم کرتے ہیں۔

رپورٹ میں واضع کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بحران کو ٹالنے کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کی کھل کر عوامی سطح پر تعریف کی ہے۔ اپنی پہلی مدتِ صدارت کے بالکل برعکس، اس بار ٹرمپ انتظامیہ نے اسلام آباد کے حوالے سے اپنی خارجہ پالیسی میں ایک تاریخی اور مثبت تبدیلی کی ہے۔ اس وقت پاکستان اور امریکہ کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون اور دیگر اہم سکیورٹی معاہدوں پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔

امریکی میڈیا ‘ووکس’ نے ایک اور بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ روایتی تعلقات سے ہٹ کر اب پاکستان اور امریکہ کے درمیان کرپٹو (Crypto) اور نایاب معدنیات (Rare Minerals) کے شعبوں میں بڑے اور دور رس نتائج کے حامل معاہدے طے پا چکے ہیں۔ بدلتی ہوئی امریکی ترجیحات اور نئی ٹیکنالوجی کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کی علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق، پاکستان اس وقت دنیا کا وہ واحد ملک بن کر ابھرا ہے جو امریکہ، چین، سعودی عرب اور ایران جیسے عالمی و علاقائی حریفوں کے ساتھ بیک وقت انتہائی مؤثر اور مضبوط روابط برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس متوازن خارجہ پالیسی نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری کا ایک ناگزیر فریق بنا دیا ہے۔تاہم، رپورٹ کے اختتام پر ووکس نے خبردار بھی کیا ہے کہ جہاں پاکستان نے عالمی تنازعات کے حل میں اپنی بین الاقوامی ساکھ اور اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کیا ہے، وہی امریکی حمایت پر حد سے زیادہ انحصار کرنا اور خطے میں موجود روایتی عدم استحکام آنے والے وقت میں پاکستان کے لیے بڑے سفارتی چیلنجز ثابت ہو سکتے ہیں۔