LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا جماعت اسلامی کا 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 4 مبینہ دہشت گرد ہلاک ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 8 کروڑ 13 لاکھ ڈالر کا اضافہ ایرانی صدر کی اسلامی ممالک کے درمیان عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز ایران کیساتھ فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے: ترجمان وائٹ ہاؤس کے پی میں شعبۂ انصاف کیلئے اب تک کا سب سے زیادہ بجٹ مختص، چیف جسٹس کا اظہار اطمینان اسحاق ڈار کی لندن میں برطانوی وزیر مملکت اسٹیفن ڈوٹی سے ملاقات پاکستان اور ہانگ کانگ کے درمیان ڈیجیٹل فنانس، ٹیکنالوجی تعاون بڑھانے پر پیش رفت نجی بینک کی کیش وین سے ساڑھے تین کروڑ روپے کی ڈکیتی قطری وزیراعظم کا دورہ تہران، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے پر بات چیت پنجاب حکومت نے گرین سرٹیفکیٹ 6 ماہ کیلئے معطل کردیا سی آئی اے سربراہ کا دورہ ماسکو روس کو نیٹو ممالک پر حملے سے باز رہنے کا انتباہ تھا، امریکی اخبار صدر مملکت کی آسٹریا روانگی، سپیکر قومی اسمبلی قائم مقام صدر مقرر محسن نقوی کا ایف آئی اے اور پاسپورٹ دفاتر کا دورہ، غفلت پر عملے کو ہٹانے کا حکم

پنجاب بھر میں لاپتہ تمام خواتین کو پندرہ روز میں بازیاب کروانے کی مہلت

Web Desk

1 June 2026

لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے پنجاب بھر میں لاپتہ ہونے والی بچیوں اور خواتین کی عدم بازیابی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کو صوبے بھر سے تمام لاپتہ خواتین کو آئندہ 15 روز کے اندر بازیاب کروا کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے لاہور ہائیکورٹ میں شہری سلمیٰ بی بی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی، جنہوں نے اپنی بیٹی مقدس بی بی کی گزشتہ چار سال سے مبینہ گمشدگی اور بازیابی کے لیے عدالتِ عالیہ سے رجوع کر رکھا ہے۔ ہائیکورٹ کے حکم پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب شعیب خرم عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور صوبے میں لاپتہ خواتین سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کروائی

دورانِ سماعت عدالت کے سامنے پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق:

  • مجموعی مقدمات: سال 2021 سے لے کر اپریل 2026 تک صوبہ بھر میں خواتین اور بچیوں کے لاپتہ ہونے کے مجموعی طور پر 3 ہزار 252 مقدمات درج کیے گئے۔

  • بازیاب شدہ خواتین: درج مقدمات میں سے اب تک صرف 1 ہزار 405 خواتین کو بازیاب کروایا جا سکا ہے۔

  • تاکیدِ بازیابی: صوبے میں اب بھی 1 ہزار 853 خواتین تاحال لاپتہ ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

سماعت کے دوران جب چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ باقی رہ جانے والی 1853 لاپتہ خواتین کی بازیابی کے لیے پولیس کو کتنا وقت درکار ہوگا؟ تو ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شعیب خرم نے عدالت سے دو ماہ کی مہلت طلب کی۔

ڈی آئی جی کی اس استدعا پر چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے:

“چھ سال پہلے آپ کے پاس وقت تھا، کیا وہ کم تھا؟ یہ سیدھا سیدھا پولیس ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔”

عدالت نے بازیاب کروائی گئی بچیوں کے تحفظ اور موجودہ صورتحال کے بارے میں بھی پوچھا، جس پر ڈی آئی جی نے موقف اپنایا کہ تمام بچیاں محفوظ ہیں؛ ان میں سے بعض نے پسند کی شادیاں کر لی ہیں جبکہ کچھ اپنے گھروں کو جا چکی ہیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق، تقریباً 80 فیصد لاپتہ خواتین نے اپنی پسند سے شادیاں کی ہیں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کے اس جواب پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو خواتین تاحال لاپتہ ہیں، ان کے حالات کے بارے میں تاحال کچھ معلوم نہیں اور یہ ایک نہایت سنگین اور حساس معاملہ ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا لاپتہ خواتین کے کیسز کے لیے کوئی مؤثر ڈیٹا اکٹھا کرنے کا نظام (Data Mechanism) موجود ہے یا نہیں؟ جس پر ڈی آئی جی نے بتایا کہ ٹیمیں اس حوالے سے ڈیٹا جمع کر رہی ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ پنجاب پولیس کے تمام اعلیٰ افسران کو لاپتہ خواتین کی فوری اور مؤثر بازیابی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر احکامات جاری کیے جائیں۔ چیف جسٹس نے سخت ہدایت کی کہ ایسے کیسز کی مانیٹرنگ کے لیے ایک باقاعدہ، جدید اور مؤثر میکنزم تشکیل دیا جائے تاکہ تفتیش کو سائنسی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھا کر مغویوں کی جلد از جلد گھروں کو واپسی ممکن بنائی جا سکے۔