LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
باقر قالیباف کا ایران پر نئی امریکی پابندیاں مسترد کرنے پر چین سے اظہارِ تشکر یوکرین جنگ ہار رہا، محاذ کی صورتحال واضح ثبوت ہے: کریملن یوکرینی حملے میں مسافر بس نشانہ بن گئی، لڑکی سمیت 9 روسی ہلاک، 6 زخمی آزاد کشمیر حکومت سازی، بیرسٹر افتخار گیلانی کا نام وزیراعظم کیلئے فائنل آبنائے ہرمز مذاکرات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی سانحہ پمز پر حکمران طبقہ زیادہ دیر نہیں چھپ سکتا: حافظ نعیم الرحمان امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر پمز آتشزدگی کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح انکوائری کمیٹی قائم سانحہ پمز: بچوں کی اموات آکسیجن بند ہونے اور جھلسنے سے ہوئی، ابتدائی رپورٹ ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی مریم نواز کی سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی سسٹم کی تنصیب یقینی بنانے کی ہدایت ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے امکانات مسترد کردیے آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے شیڈول جاری

آبنائے ہرمز کی بندش سے خام تیل 170 ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا،وزیر پیٹرولیم

Web Desk

20 May 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی مجموعی توانائی کی صورتحال، انرجی سیکیورٹی اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ اس بحران کے نتیجے میں دنیا کی تاریخ میں پہلی بار دبئی خام تیل کی قیمت 170 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ سے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی حالات کی وجہ سے انشورنس اور سیکیورٹی کاسٹ (حفاظتی اخراجات) میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس کے باعث پاکستان کو اضافی ادائیگیاں کرنا پڑیں۔علی پرویز ملک نے موجودہ بحران میں دوست ممالک کے کلیدی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہاموجودہ مشکل صورتحال میں قطر اور سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے۔ سعودی عرب نے خاص طور پر اپنے شہر ‘یانبو’ سے پاکستان کو پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی۔ وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل نے ملک کے لیے متبادل سپلائی چین کی فراہمی اور انتظامات کو ممکن بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔وزیر پٹرولیم نے ملکی درآمدی بل اور ذخائر کی گنجائش کے حوالے سے اہم اعداد و شمار پیش کیے پاکستان نے گزشتہ صرف دو ماہ کے دوران 2 ارب ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات درآمد کی ہیں۔ پاکستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ماہانہ 55 کروڑ ڈالر کا خام تیل درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اب محض 21 دن کی پٹرولیم اسٹوریج سے آگے بڑھنا ہوگا اور انرجی سیکیورٹی کے لیے نئے اسٹوریجز اور انفراسٹرکچر کی تیاری ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے پٹرولیم مصنوعات کے مستقل اسٹریٹجک ذخائر (Strategic Reserves) کی تیاری پر مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔

اضافی اخراجات: نئے اسٹوریجز کی تعمیر اور انفراسٹرکچر کے لیے تقریباً 30 کروڑ ڈالر کے اخراجات درکار ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی رنج کا اظہار کیا کہ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم نے ‘بونڈڈ کسٹم اسٹوریج پالیسی’ کو اب تک آگے کیوں نہیں بڑھایا۔