LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول کی قیمت میں کمی، ڈیزل مہنگا کر دیا گیا بجلی صارفین کو ایک اور جھٹکا، فی یونٹ 2 روپے 6 پیسے مہنگا امریکی معیشت مضبوط، روزگار میں اضافہ ہوا، اب شرح سود کم کی جائے: ٹرمپ ظلم کے باوجود عمران خان اور پی ٹی آئی کارکن ڈٹے ہوئے ہیں: سہیل آفریدی جے ڈی وینس کا آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال ہونے کا دعویٰ بھارت میں طوفانی بارشیں، دہلی ایئرپورٹ میں پانی داخل، ریڈ الرٹ جاری اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس، حالیہ سفارتی سرگرمیوں اور آئندہ ترجیحات کا جائزہ نیویارک میں یہود مخالف جرائم میں اضافہ: این وائی پی ڈی کی جانب سے سب سے محفوظ ترین موسمِ گرما کے دعوے کے باوجود اعداد و شمار جاری قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس: قانون سازی میں عدم شرکت کے پارٹی فیصلے کے باعث جی آئی ڈی سی اور گیس سرچارج بل موخر عالمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقوام متحدہ کو مزید مضبوط بنانا ہوگا: وزیراعظم گومل یونیورسٹی سے ملحقہ نجی کالجز کے ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف پاکستان کو دوبارہ عروج و زوال کے معاشی چکر میں نہیں جانے دیں گے: وزیر خزانہ خیبرپختونخوا کا ٹرانسپورٹ نظام بحران کا شکار، بدانتظامی کے سنگین انکشافات یورپی یونین بھی ایران کے خلاف اقتصادی آپریشن میں شامل ہو گئی: امریکا پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ جاری

بھارتی فلم انڈسٹری میں مذاہب کا مذاق اڑایا جاتا ہے، نصیر الدین شاہ کی کڑی تنقید

Web Desk

19 May 2026

ممبئی: معروف اور سینیئر بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ نے بالی ووڈ میں مذہب، شناخت اور اقلیتوں کے حوالے سے پیش کیے جانے والے مواد پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری میں بار بار مختلف مذاہب کا مذاق اڑایا گیا ہے، جسے تفریح کے نام پر ایک مستقل رجحان کے طور پر فروغ دیا جاتا رہا ہے۔ ایک حالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بالی ووڈ نے اپنی فلموں کی کہانیوں میں صرف سنسنی پیدا کرنے اور تجارتی فائدے کے لیے مختلف مذہبی برادریوں کو اکثر نشانہ بنایا ہے، جس میں مختلف شناختوں کو انتہائی سطحی اور دقیانوسی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

نصیر الدین شاہ نے انڈسٹری کے اس طرزِ عمل پر سوالیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “آخر وہ کون سا مذہب ہے جس کا بالی ووڈ میں مذاق نہیں اڑایا گیا؟” انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سکھ، پارسی اور عیسائی برادریوں کو اکثر فلموں میں محض مزاحیہ یا روایتی کرداروں تک محدود رکھا گیا، جبکہ مسلمان کرداروں کے ساتھ بھی یہی رویہ اپنایا گیا۔ ان کے مطابق، مسلمانوں کو زیادہ تر ایک مخصوص سانچے میں ڈھال کر دکھایا جاتا ہے، جہاں وہ اکثر فلم کے آغاز میں ہیرو کا مخلص دوست بنتا ہے اور آخر میں اس کی جان بچاتے ہوئے اپنی قربانی دے دیتا ہے۔ انہوں نے فلم سازوں پر زور دیا کہ وہ تفریح کے نام پر کسی بھی برادری کی دل آزاری اور غلط عکاسی سے گریز کریں۔