LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت کا دہشت گردی ڈرامہ ہمیشہ کیلئے دفن، پانچ گنا بڑے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی: پاک فوج وزیراعظم کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح، دانش سکول قائم کرنے کا اعلان پاکستان،ڈیرہ غازی خان میں نجی سکول کی چھت گرنے سے 4 افراد جاں بحق معرکہ حق میں انٹیلی جنس اداروں نے بڑا اہم کردار ادا کیا: محسن نقوی امریکہ اور ایران میں معاہدہ جلد متوقع، پاکستان کا پانی کوئی چوری نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ قومی دفاع میں فضائیہ کا کردار تاریخی، سرینگر سے بھٹنڈا تک سبق سکھایا: ایئرچیف قوم کا اتحاد سب سے بڑی طاقت، مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار بھارت کا غرور ملیا میٹ کرنے والی پاک فضائیہ کے شاہینوں کیلئے پروقار تقریب ایران جوہری پروگرام جاری نہ رکھنے پر آمادہ ہو گیا: صدر ٹرمپ کا دعویٰ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز امریکا اور ایران کے درمیان عارضی معاہدے کا امکان، آئندہ 48 گھنٹے اہم قرار معرکہ حق نے قوم کو اعتماد اور قوت دی، دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: افواجِ پاکستان امریکا : فیفا فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے باوجود ہوٹل بکنگ توقعات سے کم، بڑی تعداد میں ہوٹل مالکان مایوس ایران اورامریکا جنگ بندی معاہدے کے قریب پہنچ گئے، امریکی میڈیا ایران نے معاہدہ قبول کرلیاتوجنگ ختم، آبنائے ہرمزکھل جائے گی ورنہ پہلے سے شدید بمباری ہوگی، ٹرمپ

نوجوانوں میں دل کا دورہ پڑنے کے کیسز میں اضافے کی وجوہات جانیے

Web Desk

7 May 2026

حالیہ طبی تحقیقات نے نوجوانوں میں دل کے امراض اور ہارٹ اٹیک کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ایک بڑی وجہ بے سکون طرزِ زندگی اور نیند کی کمی کو قرار دیا ہے۔ فن لینڈ کی اولو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق، جو لوگ آٹھ گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں یا دیر سے سونے کے عادی ہیں، ان میں دل کے دورے اور فالج کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں دگنا ہو جاتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں طرزِ زندگی کی تبدیلی، جیسے اسکرین کا زیادہ استعمال اور غیر صحت بخش خوراک، نوجوانوں کو بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کی طرف دھکیل رہی ہے جو کہ بالآخر امراضِ قلب کا سبب بنتی ہیں۔ ماہرینِ قلب نے مشورہ دیا ہے کہ دل کی صحت برقرار رکھنے کے لیے سونے اور جاگنے کی روٹین کو درست کرنا، سونے سے ایک گھنٹہ پہلے موبائل یا ٹی وی اسکرین سے دوری اختیار کرنا اور شام چار بجے کے بعد کیفین (چائے یا کافی) کے استعمال سے بچنا بے حد ضروری ہے۔