LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران بڑے بحران میں ہے۔آبنائے ہرمز فوری کھولنے کامطالبہ کیاہے، امریکی صدرکا دعویٰ متحدہ عرب امارات کی تیل پیداکرنے والی ممالک کی تنظیم اوپیک اوراوپیک پلس سے علیحدگی عوام کےلیے خوشخبری، 25کلوواٹ سے کم سولرصارفین کےلیے لائسنس کی شرط ختم امن کےفروغ کیلیے پاکستان کا کردارقابل تعریف ہے، ایرانی سفیر ایران امریکا تنازع طے کرنے کےلیے پاکستان بہترین ثالثی کررہاہے، قطر آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی فتح ٹو میزائل سسٹم کی کامیاب مشق جوڈیشل کمیشن، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس کیانی،جسٹس بابر،جسٹس ثمن کے تبادلوں کی منظوری حکومت یورپی یونین سے تجارتی تعلقات کیلئے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی: وزیراعظم پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب صدر آصف علی زرداری کا ماؤ زے تُنگ کے آبائی شہر کا دورہ؛ عظیم چینی رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا بجلی صارفین پر مزید بوجھ؛ قیمتوں میں 26 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان، نیپرا آج سماعت کرے گی آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اجلاس 8 مئی کو طلب؛ پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری متوقع پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان برقرار اقوام متحدہ میں کانفرنس: امریکا اور ایران کے درمیان تندو تیز جملوں کا تبادلہ ایران نے 2 بحری جہازوں کو تحویل میں لینے کے امریکی اقدام کو مسلح ڈکیتی قرار دیدیا

قطری و سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، جنگ بندی کے بعد کی صورتحال بارے گفتگو

Web Desk

9 April 2026

قطر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، قطر نے اس جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں کشیدگی کے دائرہ کار کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے اس مثبت پیش رفت کو فوری طور پر آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔

گفتگو کے دوران قطری وزیر خارجہ نے خاص طور پر سمندری راستوں کے تحفظ اور جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی رسد کے نظام (گلوبل سپلائی چین) کو متاثر ہونے سے بچانے اور خطے میں پائیدار معاشی استحکام کے لیے سمندری حدود میں امن و امان کو یقینی بنانا دونوں ممالک کی ترجیحات میں شامل ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ سفارتی کوششوں کا تسلسل ہی خطے کو بڑے تنازعات سے محفوظ رکھنے کا واحد راستہ ہے۔