LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں کو ایران، لبنان اور عراق کے سفر نہ کرنے کی ہدایت کردی صدر ٹرمپ کا جنگ بندی ختم کرنے اور ایران پر دوبارہ حملوں کا عندیہ امریکی ایوانِ نمائندگان سے ہوم لینڈ سیکیورٹی فنڈنگ بل منظور، شٹ ڈاؤن کے خاتمے کی راہ ہموار پاکستانی جہاز 8 کروڑ لیٹر ڈیزل لے کر آبنائے ہرمز عبور کر گیا پیٹرول 6 روپے 51 پیسےمہنگا، نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال کی خبریں بے بنیاد، سپلائی بلا تعطل جاری رہے گی: اوگرا ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی، ٹرمپ کو آج سینٹکام کمانڈربریفنگ دیں گے  750 ملین ڈالر کے یورو بانڈز موصول، پاکستان کے  زرمبادلہ کے ذخائر20ارب ڈالر سے تجاوزکرگئے، وزارت خزانہ امریکانے حملے کیے توجواب طویل اوردردناک ہوگا، پاسداران انقلاب موٹرسائیکل سواروں، پبلک وگڈزٹرانسپورٹ کےلیے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع فسادی غیرملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانی کی تہہ کے سوا کچھ نہیں، مجتبیٰ خامنہ ای وزیراعلیٰ پنجاب کا کچہ ایریا کے لیے 23 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان امریکا اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار، امن کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں: دفتر خارجہ الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی؛ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت سمیت 2 سیاسی پارٹیاں ڈی لسٹ پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت

جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی شہری سڑکوں پر نکل آئے، پرچم اٹھا کر جشن

Web Desk

8 April 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے باقاعدہ اعلان کے بعد ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں جشن کا سماں ہے اور ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں شہریوں کی بڑی تعداد، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر اور قومی پرچم اٹھائے سڑکوں پر جمع ہو گئی اور اپنی حکومت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ ایرانی عوام اس پیش رفت کو اپنے ملک کی بڑی سفارتی اور تزویراتی فتح قرار دے رہے ہیں اور جنگ کے بادل چھٹنے پر بے حد خوش دکھائی دیے۔

دوسری جانب، پڑوسی ملک عراق کے دارالحکومت بغداد میں بھی جنگ بندی کی خبر سنتے ہی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بغداد کی شاہراہوں پر عوام نے جمع ہو کر جشن منایا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ عراق کے دیگر بڑے شہروں سے بھی ایسی ہی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جہاں عوام نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ تہران اور بغداد میں ہونے والا یہ جشن اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے عوام جنگ کے بجائے امن اور استحکام کے خواہشمند ہیں، اور یہ عوامی ردعمل مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک مثبت فضا فراہم کر سکتا ہے۔