LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیر خزانہ سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اے سی سی اے گلوبل کی ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو قطر سے 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر جہاز پورٹ قاسم پہنچ گیا الجزائر کا متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ مشرقی چین میں مال بردار جہاز میں خوفناک آتشزدگی، 20 افراد ہلاک آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا سہیل آفریدی، مینا خان سمیت 4 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ میر رضا کیس: وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجھار جوڈیشل کمیشن میں پیش سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کیلئے اسپورٹس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا بڑا فیصلہ

امتحانات میں نقل کرنے کے لئے سمارٹ چشمے کرائے پر دستیاب

Web Desk

2 April 2026

بیجنگ: چین میں تعلیمی نظام کو ایک جدید اور پیچیدہ چیلنج کا سامنا ہے جہاں طلبہ امتحانات میں نقل کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس ‘اسمارٹ گلاسز’ کا سہارا لے رہے ہیں۔ فیوچریزیم (Futurism) کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ جدید عینکیں چینی سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ پلیس ’شیان یو‘ پر محض 40 سے 80 یوآن (تقریباً 1,500 سے 3,000 پاکستانی روپے) روزانہ کے عوض کرایے پر دستیاب ہیں۔

یہ اسمارٹ گلاسز دیکھنے میں بالکل عام نظر آنے والی عینکوں جیسے ہوتے ہیں، لیکن ان کے فریم میں انتہائی باریک خفیہ کیمرے، آڈیو سسٹم اور اے آئی ماڈلز نصب ہوتے ہیں۔ طلبہ ان کے ذریعے امتحانی پرچے کو اسکین کرتے ہیں، جس کے بعد سسٹم فوری طور پر ریاضی کے پیچیدہ فارمولے حل کر دیتا ہے یا انگریزی پیراگراف کا ترجمہ کر کے عینک کے اندر لگی چھوٹی ہائی ٹیک اسکرین پر دکھا دیتا ہے۔ شینزین کے ایک تاجر نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے صرف چار ماہ میں ایک ہزار سے زائد طلبہ کو یہ آلات فراہم کیے۔

حیرت انگیز طور پر، جہاں ایک طرف ان کا غلط استعمال ہو رہا ہے، وہیں چینی حکومت اپنی قومی سبسڈی اسکیم کے ذریعے ژیومی اور علی بابا جیسے مقامی برانڈز کے اسمارٹ گلاسز کو فروغ دے رہی ہے۔ ماہرینِ تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر امتحانی طریقہ کار میں فوری تبدیلی نہ لائی گئی تو ٹیکنالوجی کی یہ ‘جاسوسی’ محنت اور قابلیت کی جگہ لے لے گی۔