LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کی مذمت پاکستان خطے میں پائیدار امن و استحکام کا خواہاں ہے، یوسف رضا گیلانی اسحاق ڈار کا ناروے کے ہم منصب ایسپن بارتھ ایدے سے ٹیلی فونک رابطہ پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتوں کا سفر، آپریشن دوارکا سے معرکۂ حق تک پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ مزار قائد پر گارڈ تبدیلی کی پروقار تقریب، پاک فضائیہ نے فرائض سنبھال لیے خلیج میں امریکی فوجی اڈے برقرار رکھنا قابلِ عمل نہیں رہا: جنرل ڈیوڈ پیٹریاس روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں مختصر وقفے پر اتفاق پاسداران انقلاب کا امریکی بحری جہازوں اور 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو 6 ستمبر کا دن یاد دلاتا ہے کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی: صدر زرداری ایران کا برکس ممالک سے ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کا مطالبہ شادی کی تقریب پر حملے میں استعمال ہتھیار امریکی ساختہ تھے، ایرانی عدلیہ ٹرمپ کے نمائندہ وفد کی روسی صدر سے ملاقات، 3 گھنٹے سے زائد مذاکرات جاری رہے ایران کا خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان

امریکہ: اے آئی الٹراساؤنڈ آلے کو معائنے کیلئے استعمال کی منظوری دے دی

Web Desk

1 April 2026

نیویارک: امریکی ریگولیٹری ادارے (FDA) نے ‘بٹر فلائی نیٹ ورک’ کے تیار کردہ جدید ترین اے آئی الٹراساؤنڈ ٹول کو مریضوں کے معائنے کے لیے کلیئرنس دے دی ہے۔ یہ آلہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو روایتی بھاری بھرکم مشینوں کے بجائے ایک واحد سلیکون چپ پر مشتمل ہے، جس سے پورے جسم کی اسکیننگ ممکن ہے۔

اس آلے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا خودکار نظام ہے جو محض دو منٹ کے اندر حمل کی مدت (Gestational Age) کا درست تخمینہ لگا سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی خاص طبی مہارت یا طویل تربیت کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ اے آئی ٹول خود ہی اسکرین پر ڈاکٹر یا ہیلتھ ورکر کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس ماڈل کو 21 ملین سے زائد الٹراساؤنڈ تصاویر پر ٹرین کیا گیا ہے تاکہ 16 سے 37 ہفتوں کے دوران حمل کے نتائج میں سو فیصد درستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی افریقی ممالک ملاوی اور یوگنڈا میں پہلے ہی کامیاب تجربات کے بعد اب امریکی مارکیٹ میں متعارف کرائی جا رہی ہے۔ ایف ڈی اے کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا طبی آلات میں استعمال نہ صرف علاج کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ دیہی علاقوں اور ایمرجنسی وارڈز میں فوری فیصلے کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔