خلیج میں امریکی فوجی اڈے برقرار رکھنا قابلِ عمل نہیں رہا: جنرل ڈیوڈ پیٹریاس
Web Desk
6 September 2026
واشنگٹن: امریکہ کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر اور ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اعتراف کیا ہے کہ مشرقی خلیجی ریاستوں میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو طویل مدتی بنیادوں پر برقرار رکھنا اب پہلے کی طرح ممکن اور قابلِ عمل نہیں رہا۔
’گلوبل گیمبٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عراق اور افغانستان میں اتحادی افواج کے سابق کمانڈر ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات پر حملوں کے بعد یہ فوجی اڈے باہمی دباؤ کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے خلیج میں امریکی فضائی دفاعی صلاحیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکہ ممکنہ طور پر اپنے نصف کے قریب انتہائی مہنگے میزائل انٹرسیپٹرز استعمال کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 50 ہزار ڈالر مالیت کے ایک معمولی ڈرون کو گرانے کے لیے لاکھوں ڈالر کا میزائل داغنا طویل مدتی جنگی حکمت عملی کے لحاظ سے معاشی طور پر ممکن نہیں ہے۔
جنرل پیٹریاس نے تاکید کی کہ امریکہ کو یوکرین کی جدید جنگی حکمت عملی سے سبق سیکھنا چاہیے، جہاں روزانہ ہزاروں کم قیمت ڈرونز کا استعمال کر کے توانائی اور دفاعی انفراسٹرکچر کو کامیابی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں ایران کی جانب سے قطر میں العدید ایئر بیس (جو خطے میں سب سے بڑا امریکی اڈہ ہے)، کویت کی علی السالم، بحرین میں ففتھ فلیٹ اور متحدہ عرب امارات کی الظفرہ ایئر بیس سمیت متعدد امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
امریکا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا: وائٹ ہاؤس
21 October 2026
راجن پور میں خوفناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 9 افراد جاں بحق، 36 زخمی
21 October 2026
لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج کا سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان
21 October 2026
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، میاں بیوی اور 17 سالہ نوجوان سمیت 4 فلسطینی شہید
21 October 2026
امریکا کے ساتھ کشیدگی میں کمی کیلئے زیلنسکی کی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات
21 October 2026
سینٹ کام کی آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کے بارودی سرنگوں سے ٹکرائے جانے کی تردید
21 October 2026
ملتان: یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم توقیر نذیر مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
21 October 2026
مڈ ٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید کمی، ریپبلکنز کے لیے خدشات بڑھ گئے
21 October 2026