LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمن کے ساحل کے قریب بحری جہاز کے نزدیک متعدد دھماکوں کی اطلاع ایرانی ایئر لائنز کی امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد نجف کیلئے پروازیں بحال ایران نے اپنے سفارتکاروں کو امریکا سے نکالے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان سعودی اتحاد کا یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان مکہ دفاعی معاہدے کے 3 رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا یوکرین نے روسی قبضے والے شہر اولیشکی میں ڈرونز سے خوراک اور ادویات پہنچا دیں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال کشمیری عوام نے مسترد کر دی: طلال چودھری روسی دباؤ سے خوفزدہ ہو کر یوکرین کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: جرمنی شیخ نہیان بن مبارک کی مجلس میں رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت تصادم چاہتی ہے: قمر زمان کائرہ آذربائیجانی خاتون ڈیانا پاکستانی پولیس افسران کے ساتھ باکو روانہ پی ٹی آئی خود کو دہشت گردی کی سہولت کار ثابت کر رہی ہے: گورنر کے پی بلوچستان کے 10 نوجوانوں کو ہر سال دنیا کی ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس دینے کا اعلان ملک بھر میں جیٹ فیول 9 روپے 5 پیسے، مٹی کا تیل 7 روپے 68 پیسے فی لیٹر مہنگا

پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کی مذمت

Web Desk

6 September 2026

اسلام آباد: پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، قطر، اردن، انڈونیشیا اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی کابینہ کی جانب سے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے جبری بے دخل کرنے کے بیانات اور منصوبوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اور قومی سلامتی کے وزیر کی جانب سے غزہ سے فلسطینیوں کی ممکنہ بے دخلی سے متعلق دیے گئے بیانات بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینیوں کو ان کی آبائی زمین سے اکھاڑنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسے اقدامات کے پورے خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی اقدامات مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع پلان کی صریح نفی ہیں۔ اسلامی ممالک نے زور دیا کہ غزہ کی پٹی، مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم مقبوضہ فلسطینی سرزمین کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں، اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کا واحد حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی نظریے پر عمل درآمد میں ہی مضمر ہے۔