LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ہفتہ وار رپورٹ؛ 100 انڈیکس میں 3130 پوائنٹس کی بڑی کمی، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے اسرائیل لبنان جنگ بندی پر عمل درآمد کیلئے امریکی فوجی وفد بیروت پہنچ گیا شپنگ، بندرگاہوں اور گوادر کی ترقی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان بھارت اور افغانستان کا ڈی این اے ایک ہے‘، نئی دہلی میں افغان وزیرِ زراعت عطاء اللہ عمری کا متنازع بیان ضرورت پڑنے پر امریکی فوج کو ایران کے تمام علاقے مکمل تباہ کرنے کے احکامات دیے جا چکے: ٹرمپ امریکی محکمہ خارجہ کی افغان طالبان رجیم پر تنقید، یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ پاکستان نے ایل این جی کا ایک اور اسپاٹ کارگو خرید لیا ایران نے جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی، امریکا خلاف ورزی کر رہا ہے: عراقچی پولیس نے طالبہ سے گن پوائنٹ پر زیادتی کرنے والے ملزم کے والد کو حراست میں لے لیا امریکی صدر ٹرمپ سینیٹ پر برہم، بل پر دستخط سے انکار کر دیا ایران نے اقوام متحدہ سے امریکا کے احتساب کا مطالبہ کر دیا امریکی صدر اور سعودی ولی عہد کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال ورلڈ بینک کے صدر کو فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل فٹ بال ’ٹرائیونڈا‘ کا تحفہ، سفیرِ پاکستان رضوان سعید شیخ کی اجے بنگا سے ملاقات ظہران ممدانی امریکی یہودیوں میں نیتن یاہو سے زیادہ مقبول قرار امریکا کا ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے بند کرنے کے عوامی اعلان کا مطالبہ، ساتھ دھمکی بھی دیدی

آئی ایم ایف رپورٹ حکومت کے لیے چارج شیٹ، مزمل اسلم کا سخت ردعمل

Web Desk

20 November 2025

پشاور : خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی پاکستان پر 186 صفحات پر مشتمل کرپشن رپورٹ حکومت کے لیے ایک واضح چارج شیٹ ہے، اور حکومت کبھی یہ رپورٹ عوام کے سامنے نہ لاتی اگر آئی ایم ایف اگلی قسط جاری نہ کرنے کی شرط نہ لگاتی۔

مزمل اسلم نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ آئی ایم ایف نے یہ رپورٹ جولائی میں حکومت کو فراہم کی تھی، مگر حکومت نے اسے نومبر میں رات کے اندھیرے میں شائع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت ہوتی تو یہ رپورٹ دن کے وقت عوام کے سامنے پیش کی جاتی۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ رپورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور ججز کی تعیناتی کے عمل پر خدشات بیان کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کی تاخیر اس لیے بھی ہوئی تاکہ ستائیس ویں آئینی ترمیم کو پاس کیا جا سکے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت اس رپورٹ پر کیوں خاموش ہے، عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ رپورٹ میں کتنی حقیقت ہے اور کتنی نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے پچھلے دو سال میں کرپشن کے 5,300 ارب روپے ریکور کیے، مگر آئی ایم ایف کے مطابق یہ بھی کرپشن کا صرف ایک حصہ ہے۔

مزمل اسلم نے مزید کہا کہ پاکستان میں موجود بے ضابطگیاں “ایلیٹ کیپچر” کی وجہ سے 6.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اس شرح نمو میں اضافہ اپنے وسائل سے کر سکتی تھی۔ انہوں نے وفاق کی فنڈز کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ وسائل ضائع ہو رہے ہیں جبکہ فنڈز ٹھیک طریقے سے استعمال نہیں ہو رہے۔

مشیر خزانہ نے سابقہ حکومت کے اسکینڈلز کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ پچھلے دو سال میں سامنے آنے والی کرپشن 5,300 ارب روپے کی رپورٹ کیسے نظرانداز کی جا سکتی ہے، جب کہ موجودہ اسکینڈلز جیسے گندم، پاور، ایل این جی، شوگر اور پنجاب میں آڈٹ جنرل کی رپورٹ میں اربوں روپے کی بدعنوانیاں سامنے آئی ہیں۔

مزمل اسلم نے زور دیا کہ حکومت کو شفافیت کے اصولوں کے مطابق رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرنی چاہیے تاکہ عوام اعتماد محسوس کریں۔