LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس؛ وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ قانون کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی بنا دی وفاق نے خیبرپختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا ہوا، اب مزید نہیں چلے گا: سہیل آفریدی قانون سے کوئی بالاتر نہیں ، ون کانسٹیٹوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین توڑے ، طلال چوہدری یوم مزدور کو تقریبات، خبروں کا سلسلہ بنا کر ختم کر دیا جاتا: حافظ نعیم ملک سے لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ؛ ایل این جی موصول ہوتے ہی بجلی کی فراہمی معمول پر آگئی، اویس لغاری احتساب عدالت کا بڑا فیصلہ؛ ملک ریاض اور ان کے بیٹوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدے پر دستخط پاکستان جنوبی کوریا مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق پاک ایران فضائی سفر 60 دن بعد بحال، تہران اسلام آباد کی پروازیں شروع وزیر داخلہ محسن نقوی کا پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں کو سلام چینی و امریکی وزرائے خارجہ کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو امریکا کا تیل کمپنیوں کو مزید 92.5 ملین بیرل خام تیل فراہم کرنے کا اعلان صدر مملکت اور وزیراعظم کی محنت کشوں کے وقار و تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم مزدور منایا جارہا ہے متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں کو ایران، لبنان اور عراق کے سفر نہ کرنے کی ہدایت کردی

کس نےوہ اقدامات کیےجس سےصوبہ تقسیم نظر آتاہے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

Web Desk

14 March 2026

کراچی کے معروف سیاستدان اور شہری رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے حوالے سے شہر کے متعدد مسائل پر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ شہریوں اور مبصرین کے مطابق گزشتہ 18 برس میں شہر میں غربت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی نے عوامی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامی سطح پر اقدامات کی کمی اور زمینوں پر غیر قانونی قبضوں نے شہر کی ترقی کو متاثر کیا ہے۔ کچھ مبصرین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کس نے وہ فیصلے کیے جن سے شہر کے فنڈز کا غلط استعمال ہوا اور پورے پاکستان میں موٹروے جیسے منصوبے فنڈ کیے گئے، جبکہ مقامی شہری سہولیات سے محروم رہے۔

تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل یا عدالتوں میں کارروائی کی ضرورت کے بارے میں بھی رائے سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا کہ انصاف کے نظام میں تعصب اور بے حسی کا امکان موجود ہے اور عدالتیں شہریوں کی آواز پر توجہ نہیں دے رہی ہیں۔

شہری رہنماؤں نے یہ بھی تنقید کی کہ تعلیم پر سب سے زیادہ اخراجات کرنے والے صوبوں میں جہالت کی شرح سب سے زیادہ ہے، اور شہری علاقوں سے گورنر کی نامزدگی کی روایت کمزور ہوئی ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی خدمات میں یہ بھی شامل ہے کہ انہوں نے کالونیل دور کے تاریخی گھروں کو عوامی رہائشی کالونیاں بنانے کے لیے اقدامات کیے۔ شہریوں نے امید ظاہر کی کہ صدر مملکت مکالمے اور شفاف اقدامات کے ذریعے شہری مسائل کو حل کریں گے۔

شہریوں نے زور دیا کہ شہر کی موجودہ صورتحال پر فوری اقدامات کیے جائیں، عید سے پہلے واضح جوابات فراہم کیے جائیں اور شہری زمینوں اور بنیادی سہولیات کے تحفظ کے لیے قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں۔