LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
احتساب عدالت کا بڑا فیصلہ؛ ملک ریاض اور ان کے بیٹوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدے پر دستخط پاکستان جنوبی کوریا مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق پاک ایران فضائی سفر 60 دن بعد بحال، تہران اسلام آباد کی پروازیں شروع وزیر داخلہ محسن نقوی کا پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں کو سلام چینی و امریکی وزرائے خارجہ کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو امریکا کا تیل کمپنیوں کو مزید 92.5 ملین بیرل خام تیل فراہم کرنے کا اعلان صدر مملکت اور وزیراعظم کی محنت کشوں کے وقار و تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم مزدور منایا جارہا ہے متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں کو ایران، لبنان اور عراق کے سفر نہ کرنے کی ہدایت کردی صدر ٹرمپ کا جنگ بندی ختم کرنے اور ایران پر دوبارہ حملوں کا عندیہ امریکی ایوانِ نمائندگان سے ہوم لینڈ سیکیورٹی فنڈنگ بل منظور، شٹ ڈاؤن کے خاتمے کی راہ ہموار پاکستانی جہاز 8 کروڑ لیٹر ڈیزل لے کر آبنائے ہرمز عبور کر گیا پیٹرول 6 روپے 51 پیسےمہنگا، نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال کی خبریں بے بنیاد، سپلائی بلا تعطل جاری رہے گی: اوگرا

اسلام آباد میں عورت مارچ کے دوران فرزانہ باری سمیت 14 افراد گرفتار

Web Desk

8 March 2026

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں عورت مارچ کے دوران پولیس نے گیارہ خواتین اور تین مردوں کو گرفتار کر لیا، گرفتار ہونے والوں میں سماجی کارکن فرزانہ باری بھی شامل ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار افراد کو تحویل میں لینے کے بعد خواتین کو وویمن پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق دفعہ 144 کے تحت عوامی اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی عائد ہے، تاہم اس کے باوجود عورت مارچ کے شرکا کی جانب سے اجتماع کیا گیا جس پر کارروائی کی گئی۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عورت مارچ کے انعقاد کے لیے کوئی اجازت نامہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق مظاہرین کی جانب سے سیکٹر ایف سکس سے ڈی چوک تک مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق شہر میں امن و امان برقرار رکھنے اور قانون کی عملداری یقینی بنانے کے لیے کارروائی کی گئی۔