LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ جاری حکومت کا جون 2027 تک پیٹرول کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف مقرر ایس ای سی پی کا بڑا سنگِ میل: اگست 2026ء میں 4,761 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، آئی ٹی سیکٹر سرِ فہرست کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ کے گلیئشرز کو پگھلانے کا باعث بن رہے ہیں، حیران کن انتباہ آئی ایس پی آر سمر انٹرنشپ پروگرام کے طلبہ کا پی ایم اے کاکول کا مطالعاتی دورہ بھارتی بیان بازی شرمناک، نارووال میں مندر طوفانی بارش سے متاثر ہوا: دفتر خارجہ پاکستانی شہری نے ابوظبی میں 1 کروڑ 50 لاکھ درہم کی لاٹری جیت لی وزیراعلیٰ مریم نواز کا سرگودھا میں مزید 7 الیکٹرو بسیں مہیا کرنے کا اعلان ’6 بچے ہیں، مزید نہیں پال سکتی‘ ماں نے 2 ماہ کے بچے کو برساتی نالے میں پھینک دیا چین ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے میں تعاون کیلئے تیار ہے: جے ڈی وینس این سی سی آئی اے کا چھاپہ، 6 لاکھ شہریوں کے فنگرپرنٹس، بائیو میٹرک ڈیٹا برآمد ایران کے معاملے پر درست فیصلہ کیا، ہم یہ جنگ پہلے ہی جیت چکے ہیں: ٹرمپ امریکی سینیٹربرنی سینڈرز کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مستقل پابندی لگانے کی تجویز اسرائیلی انتہا پسند وزیر کا غزہ سے فلسطینیوں کی بیرون ملک منتقلی کا منصوبہ پیش ایران میں امریکی حملے میں شہید ہونے والے شہریوں کی تدفین کر دی گئی

امریکا میں شہریوں کے لیے منفرد پروگرام: ٹریفک جرمانوں کے بدلے خوراک عطیہ کرنے کی سہولت

Web Desk

17 November 2025

امریکی ریاست اوکلاہوما کے شہر چکاشا میں بلدیہ اور پبلک لائبریری نے شہریوں کے لیے ایک منفرد اور فلاحی پروگرام متعارف کر دیا ہے، جس کے تحت ٹریفک خلاف ورزیوں اور لائبریری کی زائد المیعاد فیس میں کمی یا خاتمے کے بدلے کھانے پینے کی اشیاء عطیہ کی جا سکیں گی۔

ذرائع کے مطابق نومبر کے باقی ایام اور پورے دسمبر میں شہری خراب نہ ہونے والی خوراک جمع کروا کر ٹریفک چالان، میونسپل خلاف ورزیاں اور لائبریری فیس میں رعایت حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔

بلدیہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ “فوڈ فار فائن” پروگرام نہ صرف کمیونٹی کی مدد کا ذریعہ ہے بلکہ شہریوں کو جرمانوں میں قابلِ ذکر کمی کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔

بلدیہ کی عدالت کے مطابق یہ اسکیم 26 نومبر تک جاری رہے گی، اور ہر جمع شدہ فوڈ آئٹم کے بدلے 10 ڈالر جرمانہ کم کیا جائے گا، جبکہ کسی بھی شہری کو زیادہ سے زیادہ 100 ڈالر تک رعایت دی جا سکتی ہے۔

گزشتہ برس اس پروگرام میں 30 افراد نے حصہ لیا تھا، جن کی فراہم کردہ خوراک کی مالیت جرمانوں میں رعایت کی شکل میں 2,826 ڈالر تک پہنچی۔ کچھ شہریوں نے ضرورت سے زیادہ عطیہ کیا، جبکہ کچھ نے بغیر کسی جرمانے کے بھی صرف سماجی خدمت کے جذبے سے حصہ لیا۔