LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سانحہ گل پلازہ: تفتیشی افسر کو تحقیقات مکمل کرنے کیلئے 9 اگست تک مہلت مل گئی ٹرمپ کا امیرِ قطر سے ٹیلیفونک رابطہ، خلیج میں استحکام کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور ’’یوم استحصال کشمیر‘‘جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے: شرجیل میمن بلاول بھٹو دل بڑا کریں، لیڈر شکست پر روتے اچھے نہیں لگتے: طلال چودھری ’’یوم استحصال‘‘: پاک فوج کا کشمیری عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ ایران کیساتھ جنگ، امریکا کو طویل فاصلے تک مار کرنیوالے میزائلوں کی کمی کا سامنا مودی سرکار کے اقدامات نے بھارتی ریاستی جبر میں اضافہ کیا: وزیراعظم پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ’’یومِ استحصالِ کشمیر‘‘ منایا جارہا ہے ن لیگ نئے صوبوں پر جلد فیصلہ کر کے اپنا مؤقف سامنے لائے گی: رانا ثنا اللہ حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان اسحاق ڈار القدس سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن روانہ آبنائے ہرمز معاہدے کی راہ ہموار، ایران کی عمان سے مثبت مذاکرات کی تصدیق وزیراعظم شہباز شریف 6 اور 7 اگست کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے پی ٹی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 7 ماہ میں 18 لاکھ سے زائد سمز بلاک روس میں کرپٹو کرنسی کے لیے جامع قانون منظور، صدر پوتن نے دستخط کر دیے

نمک کے زیادہ استعمال سے جسم پر ممکنہ اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟

Web Desk

22 February 2026

نمک کھانے کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کا 60 فیصد حصہ کلورائیڈ جبکہ 40 فیصد حصہ سوڈیم پر مشتمل ہوتا ہے۔ قدرتی غذاؤں میں بھی سوڈیم موجود ہوتا ہے اور روزانہ کی معمولی مقدار جسم کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہ مسلز اور اعصاب کو فعال رکھتا ہے اور پانی و منرلز کے توازن کو برقرار رکھتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، روزانہ 5 گرام (ایک چائے کا چمچ) سے زیادہ نمک کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ زیادہ نمک کے فوری اثرات میں پیٹ پھولنا، ہائی بلڈ پریشر، ہاتھ یا پیر سوج جانا، زیادہ پیاس لگنا، باتھ روم کے زیادہ چکر، جسمانی وزن میں اضافہ، نیند میں خلل، کمزوری اور نظام ہاضمہ کی خرابی شامل ہیں۔

نمک کی زیادہ مقدار جسم میں پانی جمع کرتی ہے، جس سے پیٹ پھولتا ہے اور گردوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اضافی سوڈیم خون کے خلیات سے پانی کھینچتا ہے، جس سے کمزوری اور ڈی ہائیڈریشن کے خطرات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ نیند متاثر ہو سکتی ہے اور متلی یا ہیضے جیسے نظام ہاضمہ کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

طویل المعیاد اثرات میں دل کے پٹھوں کا حجم بڑھنا، گردے کے امراض، پتھری، ہڈیوں کی کمزوری، فالج اور بار بار سردرد شامل ہیں۔ اس لیے صحت مند زندگی کے لیے روزانہ نمک کی مقدار کو محدود اور متوازن رکھنا ضروری ہے۔