LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ماسکو کی جانب آنے والے 338 ڈرونز تباہ، آئل ریفائنری کی تنصیب کو نقصان باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت؛ فوری رہائی کا مطالبہ حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے، مریم نواز جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا 4 فلسطین نواز کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ، تیونس میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

نمک کے زیادہ استعمال سے جسم پر ممکنہ اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟

Web Desk

22 February 2026

نمک کھانے کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کا 60 فیصد حصہ کلورائیڈ جبکہ 40 فیصد حصہ سوڈیم پر مشتمل ہوتا ہے۔ قدرتی غذاؤں میں بھی سوڈیم موجود ہوتا ہے اور روزانہ کی معمولی مقدار جسم کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہ مسلز اور اعصاب کو فعال رکھتا ہے اور پانی و منرلز کے توازن کو برقرار رکھتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، روزانہ 5 گرام (ایک چائے کا چمچ) سے زیادہ نمک کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ زیادہ نمک کے فوری اثرات میں پیٹ پھولنا، ہائی بلڈ پریشر، ہاتھ یا پیر سوج جانا، زیادہ پیاس لگنا، باتھ روم کے زیادہ چکر، جسمانی وزن میں اضافہ، نیند میں خلل، کمزوری اور نظام ہاضمہ کی خرابی شامل ہیں۔

نمک کی زیادہ مقدار جسم میں پانی جمع کرتی ہے، جس سے پیٹ پھولتا ہے اور گردوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اضافی سوڈیم خون کے خلیات سے پانی کھینچتا ہے، جس سے کمزوری اور ڈی ہائیڈریشن کے خطرات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ نیند متاثر ہو سکتی ہے اور متلی یا ہیضے جیسے نظام ہاضمہ کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

طویل المعیاد اثرات میں دل کے پٹھوں کا حجم بڑھنا، گردے کے امراض، پتھری، ہڈیوں کی کمزوری، فالج اور بار بار سردرد شامل ہیں۔ اس لیے صحت مند زندگی کے لیے روزانہ نمک کی مقدار کو محدود اور متوازن رکھنا ضروری ہے۔