LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سانحہ گل پلازہ: تفتیشی افسر کو تحقیقات مکمل کرنے کیلئے 9 اگست تک مہلت مل گئی ٹرمپ کا امیرِ قطر سے ٹیلیفونک رابطہ، خلیج میں استحکام کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور ’’یوم استحصال کشمیر‘‘جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے: شرجیل میمن بلاول بھٹو دل بڑا کریں، لیڈر شکست پر روتے اچھے نہیں لگتے: طلال چودھری ’’یوم استحصال‘‘: پاک فوج کا کشمیری عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ ایران کیساتھ جنگ، امریکا کو طویل فاصلے تک مار کرنیوالے میزائلوں کی کمی کا سامنا مودی سرکار کے اقدامات نے بھارتی ریاستی جبر میں اضافہ کیا: وزیراعظم پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ’’یومِ استحصالِ کشمیر‘‘ منایا جارہا ہے ن لیگ نئے صوبوں پر جلد فیصلہ کر کے اپنا مؤقف سامنے لائے گی: رانا ثنا اللہ حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان اسحاق ڈار القدس سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن روانہ آبنائے ہرمز معاہدے کی راہ ہموار، ایران کی عمان سے مثبت مذاکرات کی تصدیق وزیراعظم شہباز شریف 6 اور 7 اگست کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے پی ٹی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 7 ماہ میں 18 لاکھ سے زائد سمز بلاک روس میں کرپٹو کرنسی کے لیے جامع قانون منظور، صدر پوتن نے دستخط کر دیے

الرجیز، نزلہ اور زکام سے بچاؤ کیلئے یونیورسل ویکسین حقیقت کے قریب

Web Desk

21 February 2026

کیلیفورنیا (نیوز ڈیسک): اسٹینفورڈ میڈیسن کے ماہرین نے طب کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے تحت اب ہر سال مختلف بیماریوں کے لیے الگ الگ ویکسین لگوانے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ محققین نے ایک ایسا ویکسین فارمولا تیار کر لیا ہے جو نہ صرف وائرس بلکہ الرجی اور خطرناک بیکٹیریا کے خلاف بھی ڈھال کا کام کرے گا۔

تحقیق کے نمایاں پہلو:

  • کثیر المقاصد تحفظ: یہ ویکسین نزلہ، فلو، اور کووِڈ-19 جیسے وائرسز کے علاوہ سیپسس (خون کا انفیکشن) پیدا کرنے والے بیکٹیریا اور گرد کے ذرات (ڈسٹ مائٹس) سے ہونے والی الرجی کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

  • ناک کے ذریعے استعمال: یہ ویکسین ٹیکے (انجکشن) کے بجائے نیزل اسپرے (Nasal Spray) کی صورت میں ناک کے ذریعے دی جائے گی، جو پھیپھڑوں میں براہِ راست پہنچ کر حفاظتی نظام کو مضبوط بنائے گی۔

  • طویل مدتی اثر: چوہوں پر کیے گئے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ اس ویکسین کا اثر پھیپھڑوں میں کئی ماہ تک برقرار رہتا ہے۔

ماہرین کی رائے:

تحقیق کے مرکزی مصنف اور اسٹینفورڈ میڈیسن میں انسٹی ٹیوٹ فار امیونٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مالی پولیندران کا کہنا ہے کہ یہ ایک حقیقی “یونیورسل ویکسین” ہے جو مستقبل میں آنے والی نئی وباؤں کے خلاف بھی انسانوں کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر اس کے انسانوں پر تجربات کامیاب رہے تو سردیوں میں بار بار لگنے والے فلو شاٹس کی ضرورت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔