LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی ٹرین مارچ، عوامی حقوق کی تحریک جاری ر ہے گی: حافظ نعیم الرحمان ماسکو کی جانب آنے والے 338 ڈرونز تباہ، آئل ریفائنری کی تنصیب کو نقصان باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت؛ فوری رہائی کا مطالبہ حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے، مریم نواز جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا

کافی شوگر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

Web Desk

18 February 2026

دنیا بھر میں لاکھوں افراد اپنے دن کا آغاز کافی سے کرتے ہیں، تاہم ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ سوال اہمیت رکھتا ہے کہ آیا کافی خون میں شکر کی سطح پر مثبت اثر ڈالتی ہے یا منفی۔

ماہرینِ صحت کے مطابق کافی کا بلڈ شوگر پر اثر کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے، جن میں کافی پینے کا وقت، اس میں شامل اجزاء اور فرد کی کیفین کے حوالے سے حساسیت شامل ہیں۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق سادہ بلیک کافی عموماً خون میں شکر کی سطح میں نمایاں اضافہ نہیں کرتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر چینی کے معتدل مقدار میں کافی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے قابلِ قبول ہو سکتی ہے، تاہم ہر فرد کا ردعمل مختلف ہو سکتا ہے۔

انسانی جسم میں شوگر کی سطح دن بھر قدرتی طور پر اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے، خاص طور پر کھانے کے بعد جب کاربوہائیڈریٹس گلوکوز میں تبدیل ہوتے ہیں۔ ایسے میں کافی کا اثر دیگر غذائی عوامل کے ساتھ مل کر سامنے آتا ہے۔

کن صورتوں میں کافی نقصان دہ ہو سکتی ہے؟

ماہرین کے مطابق اگر کافی میں چینی، میٹھے سیرپ یا زیادہ کیلوریز والے کریمر شامل کیے جائیں تو یہ بلڈ شوگر میں عارضی اضافہ کر سکتے ہیں۔

اسی طرح کیفین بعض افراد میں اسٹریس ہارمونز، خصوصاً کورٹیسول، کو متحرک کر سکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق زیادہ کیفین بعض افراد میں میٹابولک ردعمل کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں جگر سے اضافی گلوکوز خارج ہو سکتا ہے۔ یہ اثر خالی پیٹ کافی پینے کی صورت میں زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔

کیفین کے حساس افراد میں یہ ردعمل نسبتاً زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر ہو سکتا ہے۔

بلڈ شوگر پر منفی اثرات کم کرنے کے طریقے

ماہرین درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں:

کافی کو کھانے کے ساتھ پیا جائے، خاص طور پر اگر خوراک میں پروٹین یا صحت مند چکنائی شامل ہو۔

چینی اور میٹھے سیرپ سے گریز کیا جائے یا شوگر فری متبادل استعمال کیا جائے۔

خالی پیٹ زیادہ کیفین والی کافی پینے سے پرہیز کیا جائے۔

بلڈ شوگر کی باقاعدہ نگرانی کی جائے تاکہ انفرادی ردعمل کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق اعتدال اور محتاط انتخاب کے ذریعے کافی کو ذیابیطس کے مریض اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں، تاہم کسی بھی بڑی تبدیلی سے قبل معالج سے مشورہ ضروری ہے۔