LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی ٹرین مارچ، عوامی حقوق کی تحریک جاری ر ہے گی: حافظ نعیم الرحمان ماسکو کی جانب آنے والے 338 ڈرونز تباہ، آئل ریفائنری کی تنصیب کو نقصان باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت؛ فوری رہائی کا مطالبہ حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے، مریم نواز جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا

اسلام آباد میں بنیادی مرکز صحت میں ٹیلی میڈیسن سینٹر کا افتتاح

Web Desk

17 February 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفٰی کمال نے اسلام آباد میں ٹیلی میڈیسن سینٹر کا افتتاح کر دیا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں ٹیلی میڈیسن ایک انقلاب کی حیثیت رکھتی ہے اور جدید ٹیکنالوجی نے دور دراز علاقوں میں علاج معالجہ آسان بنا دیا ہے۔

وزیر صحت کے مطابق ٹیلی میڈیسن سینٹرز میں مریضوں اور ڈاکٹرز کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ علاج کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیلی میڈیسن کے ذریعے غریب طبقے کے لیے علاج کو آسان اور قابل رسائی بنانا چاہتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی مراکز صحت کو مضبوط بنانے سے بڑے اسپتالوں پر بوجھ کم ہو گا اور نظام صحت میں جامع اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔مصطفٰی کمال کا کہنا تھا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث وسائل پر شدید دباؤ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً نیوزی لینڈ کی آبادی کے برابر اضافہ ہو رہا ہے، جس سے صحت کے نظام پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہیلتھ کیئر کے بہتر انتظام کے لیے بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ ضروری ہے، جبکہ موجودہ نظام لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکا۔