LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل جدت اور اے آئی کا کردار کلیدی ہے: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد پی سی بی نے نیشنل چیمپئنز کپ کے میچ آفیشلز پینل کا اعلان کر دیا تھائی لینڈ میں سکول میں فائرنگ سے 7 افراد ہلاک، 15 زخمی میں مذاکرات کی دعوتیں دے دے کر تھک گیا ہوں، اپوزیشن بات چیت چاہتی ہی نہیں چین نے افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کو ہمسایہ ممالک کیلئے سنگین خطرہ قرار دیدیا مون سون کے بعد خستہ حال عمارتوں کا سروے کرایا جائے، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر میں رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال سلامتی کونسل کی جانب سے سوات میں دہشت گرد حملے کی مذمت خون میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی دل کے شدید دورے کے خطرے سے منسلک، نئی تحقیق حوثی باغیوں کا سعودی عرب پر حملہ، ایک پاکستانی سمیت 11 شہری زخمی پاکستان، سعودیہ، ترکیہ کا سربراہی اجلاس آج، مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط متوقع وزیراعظم کی فیلڈ مارشل کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی، ملک کیلئے خصوصی دعائیں سعودیہ میں عراقی ملیشیا اور حوثیوں کے حملوں کا خدشہ، سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ صدر ٹرمپ ایران کیخلاف جنگ میں شدید مشکلات سے دوچار: میڈیا رپورٹ ایران اور عمان میں آبنائے ہرمز معاہدے پر عملدرآمد انتہائی مشکل ہے: عالمی شپنگ انڈسٹریز

صحت کا نظام تباہی کی دہلیز پر، پی ایم اے نے قومی طبی ایمرجنسی کا مطالبہ کر دیا

Web Desk

12 February 2026

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) نے ملک کے موجودہ صحت کے نظام کو قومی طبی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نظامِ صحت تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ بیان PMA ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران کیا گیا، جس میں رہنماؤں نے کہا کہ یہ بریفنگ معمولی پالیسی بحث کے لیے نہیں بلکہ فوری قومی اقدامات کے لیے بلائی گئی ہے۔

پی ایم اے کے مطابق پاکستان کی آبادی 25 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے، مگر صحت پر سرکاری اخراجات جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔ عالمی معیار کے مطابق، پاکستان میں 2500 مریضوں پر صرف ایک نرس دستیاب ہے۔

مقررین نے بتایا کہ سال 2025 تک تین ہزار سے زائد اسپیشلسٹ ڈاکٹر ملک چھوڑ چکے ہیں۔ دیہی علاقوں میں 45 فیصد بنیادی مراکز صحت غیر فعال ہیں، جبکہ بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو ایمرجنسی وارڈز میں تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پی ایم اے نے مزید کہا کہ بڑے شہروں کے اسپتالوں میں داخل ہونے والے 40 فیصد مریض آلودہ پانی کے باعث بیمار ہوتے ہیں، پولیو اور ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ جیسے امراض دوبارہ ظاہر ہو رہے ہیں۔ ملک میں 3 کروڑ 40 لاکھ افراد ذیابیطس کے شکار ہیں اور ایشیا میں چھاتی کے کینسر کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 501 تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ہر روز 675 نوزائیدہ بچے اور 27 مائیں ناقابل علاج وجوہات کے باعث انتقال کر جاتی ہیں۔

ادویات کی قیمتوں کے آزاد کرنے کے بعد بلڈ پریشر، شوگر اور دمہ کی ادویات کی قیمتوں میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ انسولین سمیت 80 ضروری ادویات کی شدید قلت ہے اور ڈریپ مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔

پی ایم اے نے مطالبہ کیا کہ صحت کے بجٹ کو جی ڈی پی کے کم از کم تین فیصد تک بڑھایا جائے، جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں منجمد کی جائیں، ہیلتھ کیئر ورکرز پر تشدد کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے، صاف پانی کی فراہمی کو قومی ترجیح بنایا جائے، اور پی ایم ڈی سی کو شفاف ادارہ بنایا جائے۔