LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران نے امریکا سے جنگ بندی مذاکرات کےلیےنئی تجاویز پاکستان کے حوالے کردیں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس؛ وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ قانون کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی بنا دی وفاق نے خیبرپختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا ہوا، اب مزید نہیں چلے گا: سہیل آفریدی قانون سے کوئی بالاتر نہیں ، ون کانسٹیٹوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین توڑے ، طلال چوہدری یوم مزدور کو تقریبات، خبروں کا سلسلہ بنا کر ختم کر دیا جاتا: حافظ نعیم ملک سے لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ؛ ایل این جی موصول ہوتے ہی بجلی کی فراہمی معمول پر آگئی، اویس لغاری احتساب عدالت کا بڑا فیصلہ؛ ملک ریاض اور ان کے بیٹوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدے پر دستخط پاکستان جنوبی کوریا مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق پاک ایران فضائی سفر 60 دن بعد بحال، تہران اسلام آباد کی پروازیں شروع وزیر داخلہ محسن نقوی کا پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں کو سلام چینی و امریکی وزرائے خارجہ کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو امریکا کا تیل کمپنیوں کو مزید 92.5 ملین بیرل خام تیل فراہم کرنے کا اعلان صدر مملکت اور وزیراعظم کی محنت کشوں کے وقار و تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم مزدور منایا جارہا ہے

سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی

Web Desk

13 November 2025

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفیٰ صدرِ مملکت کو بھجوایا، جس میں انہوں نے لکھا کہ وہ صاف ضمیر کے ساتھ جا رہے ہیں اور انہیں کوئی پچھتاوا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک کے آئین پر سنگین حملہ کیا گیا ہے، جس نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا قلم امانت ہے میرے لوگوں کی، اور احمد فراز کے اشعار کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق 27ویں ترمیم نے سپریم کورٹ کو تقسیم کر دیا، عدلیہ کی آزادی اور دیانت کو مجروح کر دیا، اور انصاف عام آدمی سے دور کر دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جس عدالت سے آئینی کردار ہی چھین لیا گیا، وہاں رہ کر حلف کی پاسداری ممکن نہیں۔ ایسے نظام کا حصہ بننا جو عدلیہ کی بنیاد کو کمزور کرے، میرے ضمیر کے خلاف ہے۔

دوسری جانب جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے استعفے میں کہا کہ جس آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا تھا وہ آئین اب باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق تفصیلی خط چیف جسٹس پاکستان کو پہلے ہی لکھ چکا ہوں، لہٰذا استعفے میں دوبارہ تذکرہ ضروری نہیں سمجھتا۔

ذرائع کے مطابق دونوں ججوں کے استعفے صدرِ مملکت کو موصول ہو چکے ہیں، جس کے بعد عدلیہ میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔