LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ اسحاق ڈار کا عمانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے: شہباز شریف سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ

جولائی تا جنوری : ایف بی آر کو 372 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا

Web Desk

31 January 2026

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) رواں مالی سال کے دوران مقررہ ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایف بی آر کی دستاویزات کے مطابق جولائی 2025 سے جنوری 2026 تک 372 ارب روپے کا شارٹ فال ریکارڈ کیا گیا۔

دستاویز کے مطابق 30 جنوری 2026 تک ایف بی آر 986 ارب روپے ٹیکس وصول کر سکا جبکہ جنوری کے لیے مقررہ ہدف 1 ہزار 31 ارب روپے تھا۔ جنوری سے مارچ کے دوران سپر ٹیکس کی مد میں 200 ارب روپے وصول ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جنوری کے دوران مجموعی ٹیکس وصولی 7 ہزار 147 ارب روپے رہی، جبکہ اسی مدت کے لیے ہدف 7 ہزار 521 ارب روپے مقرر تھا۔

جنوری میں انکم ٹیکس کی مد میں 465 ارب روپے وصول کیے گئے، جبکہ ہدف 452 ارب روپے تھا۔ سیلز ٹیکس کا ہدف 387 ارب روپے رکھا گیا تھا تاہم کلیکشن 352 ارب روپے تک محدود رہی۔

کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 126 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 107 ارب روپے وصول کیے جا سکے، جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 65 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 61 ارب روپے جمع ہوئے۔

ایف بی آر نے جنوری کے دوران 47 ارب روپے جبکہ جولائی سے جنوری تک مجموعی طور پر 340 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں جاری کیے گئے 314 ارب روپے سے زیادہ ہیں۔

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت مارچ 2026 تک 9 ہزار 917 ارب روپے ٹیکس محصولات اکٹھے کرنے کا ہدف مقرر ہے، جس کے لیے ایف بی آر کو آئندہ دو ماہ میں مزید 2 ہزار 765 ارب روپے سے زائد وصول کرنا ہوں گے۔

گزشتہ مالی سال 2024-25 کے پہلے سات ماہ میں ایف بی آر نے 6 ہزار 699 ارب روپے ٹیکس وصول کیا تھا۔