LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا نے متحدہ عرب امارات کیلیے تجارت کے دروازے کھول دیے علما کرام ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے شرعی جائزہ لیں، بلال بن ثاقب کی مفتی تقی عثمانی سےملاقات میں اپیل بنگلا دیش میں سیلاب نے تباہی مچادی، 44 افراد جاں بحق، لاکھوں شہری محصور ایف آئی اے کی جانب سے 39 ہزار سے زائد مسافروں کو آف لوڈ کیے جانے کا انکشاف پی ڈی ایم اے نے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا الرٹ جاری کر دیا بلوچستان میں آپریشن ’شعبان‘ جاری، ایک دن میں فتنہ الہندوستان کے 14 دہشت گرد ہلاک پاکستان ترقی کے نئے دور میں داخل، 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت کا ہدف کل جماعتی حریت کانفرنس کا 13 جولائی یومِ شہدائے کشمیر منانے کا اعلان امریکی یہودیوں میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی مقبولیت مٹی میں مل گئی اسحاق ڈار کا مالدیپ کی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، 61ویں یومِ آزادی پر مبارکباد دی اسٹاک مارکیٹ میں ہفتہ وار شدید مندی؛ سرمایہ کاروں کے 259 ارب روپے ڈوب گئے، امریکا اور اسرائیل کو جنگی جرائم کی سزا اور ہرجانہ ادا کرنا ہوگا: سربراہ ایرانی عدلیہ بنوں: پولیس نے 40 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست جاری کر دی، سروں کی قیمت مقرر پاکستان ہاکی کی بہتری کیلیے غیر ملکی کوچز نے کام شروع کر دیا غیر ملکی خواتین سے جنسی زیادتی اور اغوا کا کیس: ملزمان کا مزید 5 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور

پاکستان کے ٹاپ 15 سرکاری اداروں کے منافع میں 30 ارب روپے کمی، 622 ارب روپے رہ گیا

Web Desk

29 January 2026

وزارتِ خزانہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ٹاپ 15 سرکاری اداروں (SOEs) نے مالی سال 2024-25 میں مجموعی طور پر 622 ارب روپے منافع حاصل کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد یا 30 ارب روپے کم ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف ایک کمپنی نے 100 ارب روپے سے زائد منافع کمایا، جبکہ تین کمپنیوں کا منافع 50 ارب روپے سے زائد رہا۔

رپورٹ میں سرکاری اداروں کے بورڈز کی غیر مؤثر کارکردگی، آڈٹ اور رسک کمیٹیوں کی کمزوری، اور انتظامیہ کی کمزور نگرانی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بورڈز زیادہ تر نامکمل اور رسمی نوعیت کے ہیں، اور کارکردگی کا کوئی باقاعدہ جائزہ موجود نہیں۔ رپورٹ کے مطابق صرف 36 فیصد سرکاری اداروں کے آڈٹس مکمل ہو سکے، جس کی وجہ سے مالی فیصلے اندازوں پر کیے گئے۔

وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات 6.5 کھرب روپے تک پہنچنے کا انکشاف بھی کیا گیا۔ مالی طور پر سب سے زیادہ منافع دینے والا ادارہ او جی ڈی سی ایل رہا، جس نے 170 ارب روپے منافع کمایا، جبکہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ 90 ارب اور نیشنل بینک 57 ارب روپے کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ چوتھے نمبر پر واپڈا تھا، جس نے 52 ارب روپے منافع دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بورڈز میں 50 فیصد آزاد نمائندگی موجود ہے، مگر آڈٹ اور رسک کمیٹیوں کی آزادی کمزور رہی اور انتظامیہ کو مؤثر چیلنج نہیں کیا گیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پہلے فیصلہ کیا تھا کہ سرکاری افسران جو مختلف بورڈز کے رکن ہیں، وہ زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے بورڈ فیس رکھ سکیں گے، مگر بیوروکریسی کے دباؤ پر یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔