LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نائب وزیراعظم کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، امریکا-ایران کشیدگی میں اضافے پر اظہارتشویش وینزویلا زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 333 ہوگئی؛ 17 ہزار افراد بے گھر یورپ کی آبنائے ہرمز پر جہازوں سے ’رضاکارانہ‘ نیویگیشن فیس لینے کی تجویز دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ اور سندھ کی روح ہے، اس پر جارحیت ملک پر جارحیت ہوگی، مراد علی شاہ امریکا: نو دریافت شدہ قدیم باقیات امریکی تاریخ بدل سکتی ہیں امارات کے نائب صدر 77 ویں سالگرہ منانے اسکاٹ لینڈ میں اپنی دلکش اراضی میں پہنچ گئے ترکیہ اور مصر نے ہم جنس پرست سیاحوں کے جہاز کو داخل ہونے سے روکدیا گوادر پورٹ میں نئی تاریخ رقم، پہلی بار بین الاقوامی جہازوں کو ایندھن کی فراہمی ویتنام میں اسپیڈ بوٹ گہرے سمندر میں ڈوب گئی؛ 15 بھارتی سیاح ہلاک روس کو یوکرین میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے چین نے روکا؛ صدر زیلنسکی امریکا نے اپنے دو طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب پہنچا دیے اشتہاری ملزم کی شادی میں شرکت پر پولیس کی دوڑیں لگ گئیں کراچی میں 3 بچوں سمیت 27 افغان مہاجرین گرفتار سندھ میں دہشت گردوں، جرائم پیشہ افراد اور سہولت کاروں کیخلاف کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ امریکا نے متحدہ عرب امارات کیلیے تجارت کے دروازے کھول دیے

وزارت خزانہ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ رپورٹ جاری، معاشی استحکام برقرار مگر چیلنجز موجود

Web Desk

27 January 2026

وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران مجموعی طور پر معاشی استحکام برقرار رہا۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی سال 2025-26 میں ملکی معیشت کی رفتار برقرار رہنے کی توقع ہے جسے بہتر مالی نظم و ضبط نے سہارا دیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق رواں ماہ مہنگائی 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے جبکہ دسمبر میں مہنگائی 5.6 فیصد اور نومبر میں 6.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی قابو میں ہے اور بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) کی نمو میں واضح بہتری آئی ہے، آئندہ مہینوں میں مزید بہتری کی امید ہے۔

رپورٹ کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہیں، روپے کی قدر نسبتاً مستحکم رہی اور مالی نظم و ضبط کے باعث مالی اور پرائمری سرپلس حاصل ہوا۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی جو عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹس میں شامل رہی، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

تاہم رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کمی ہوئی اور اس کا حجم صرف 810 ملین ڈالر رہا۔ اسی دوران برآمدات میں 5 فیصد کمی سے حجم 15.5 ارب ڈالر تک محدود رہا جبکہ درآمدات 12.3 فیصد اضافے کے ساتھ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔

چھ ماہ میں ترسیلات زر 10.6 فیصد اضافے سے 19.73 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.17 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال میں ڈالر کی قیمت میں 1.2 روپے اضافہ ہوا اور شرح تبادلہ 278.7 سے بڑھ کر 279.9 روپے تک پہنچ گئی۔

وزارت خزانہ کے مطابق پہلے پانچ ماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6 فیصد اضافہ ہوا، پرائمری سرپلس 3651 ارب روپے جبکہ فسکل بیلنس 981 ارب روپے مثبت رہا۔ ایف بی آر ریونیو 9.5 فیصد اضافے سے 6160 ارب روپے جبکہ نان ٹیکس ریونیو 4.8 فیصد اضافے سے 3581 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر بڑھ کر 16.1 ارب ڈالر ہو گئے جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس ذخائر کی مالیت 5.2 ارب ڈالر رہی۔ وزارت خزانہ کے مطابق معاشی گورننس اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں جن کا مقصد ادارہ جاتی استحکام اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔