LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سینٹ کام نے ایران کے امریکی طیارے تباہ کرنے کے دعوے مسترد کر دیئے ہمارے مخالفین آپس میں کسی بات پر متفق نہیں، ہماری سیاست صرف ترقی ہے: احسن اقبال بھارت کی موجودہ قیادت نفرت کی سیاست سے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے: سفیر فیصل نیاز ترمذی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری خضدار میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشت گرد جہنم واصل بھارت فلسطین کیخلاف اسرائیل کو اسلحہ اور دفاعی پرزے فراہم کرتا رہا: ایمنسٹی انٹرنیشنل ترک وزیر خارجہ کی حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ سے ملاقات، امن مذاکرات پر زور اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال وفاقی آئینی عدالت کا ریٹائرڈ ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ وزیراعظم کی بجلی چوری کے خاتمے کیلئے سخت اقدامات کی ہدایت کشمیر میں انتخابات کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہئے، بلٹ سے نہیں: بلاول بھٹو نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی ایران کا اردن میں امریکی ایئربیس پر حملہ، تین ایف 35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کامن ویلتھ گیمز: ارشد ندیم نے جیولین تھرو کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا اوورسیز پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم

متحدہ عرب امارات میں بچوں کے سوشل میڈیا قوانین نافذ، والدین پر بھاری جرمانے عائد

Web Desk

22 January 2026

متحدہ عرب امارات میں بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ بنانے کے لیے نیا چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی قانون نافذ العمل ہو گیا ہے، جس کے تحت والدین اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سخت قانونی ذمہ داریاں عائد کر دی گئی ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق 13 سال سے کم عمر بچوں کے ذاتی ڈیٹا کے استعمال کے لیے والدین کی واضح، تحریری اور قابل تصدیق اجازت لازم قرار دی گئی ہے، جبکہ یہ اجازت کسی بھی وقت واپس لی جا سکتی ہے۔

نئے قانون کے تحت بچوں کے ڈیٹا کو کمرشل مقاصد یا ٹارگٹڈ اشتہارات کے لیے استعمال کرنا مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ اس کے علاوہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے آن لائن کمرشل گیمنگ، جوا اور بیٹنگ پلیٹ فارمز تک رسائی بند کر دی گئی ہے۔

قانون کے مطابق والدین اور سرپرست اب قانونی طور پر بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق نگرانی میں غفلت برتنے پر والدین پر ایک ملین درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

یہ قانون نہ صرف یو اے ای میں قائم کمپنیوں بلکہ تمام غیر ملکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، گیمنگ ایپس اور آن لائن سروسز پر بھی لاگو ہوگا۔