LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی برطانیہ نے امریکا ایران جنگ میں پاکستان کا کردار سراہا: اسحاق ڈار فیلڈ مارشل سے سعودی وزیر ماحولیات کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال سپریم کورٹ نے کے پی ملازمین کی سینیارٹی کیس کا فیصلہ سنا دیا مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17 ویں وزیراعظم منتخب اسحاق ڈار کی سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال مکہ معاہدے میں شمولیت کی دعوت ملی تو ضرور غور کریں گے: بنگلہ دیش قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سانحہ پمز پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور امریکی قونصل خانہ کراچی کا لنکن کارنر میں “روڈ ٹو لبرٹی” بانیانِ امریکہ میوزیم نمائش کا باقاعدہ آغاز ایشین گیمز 2026ء: شرکاء کی تعداد 17 ہزار تک پہنچ گئی، منتظمین کو رہائش کے بحران کا سامنا وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت سانحہ پمز: راجہ پرویز اشرف کا قومی اسمبلی میں شدید احتجاج، پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ سینیٹ اجلاس: سانحہ پمز پر اپوزیشن و حکومت کے درمیان شدید نوک جھونک، پالیسی اصلاحات کا مطالبہ سپریم کورٹ کا ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست وصول کرنے سے انکار اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گے: سینیٹر پرویز رشید

سکھر میں ماہی گیر نے سمندر سے لاطینی امریکا کی منفرد مچھلی پکڑ لی، سب حیران

Web Desk

6 January 2026

سکھر میں ایک ماہی گیر کے ہاتھوں پکڑی گئی غیر معمولی مچھلی نے نہ صرف عوام بلکہ ماہرین کی بھی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق 4 جنوری کو سکھر سے کراچی فش ہاربر لائی جانے والی ایک عجیب مچھلی کی تحقیق کے بعد شناخت ایمازون سیل فن کیٹ فش کے طور پر کی گئی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمازون سیل فن کیٹ فش کا اصل تعلق لاطینی امریکا سے ہے اور اسے ایک حملہ آور غیر ملکی نسل (Invasive Species) تصور کیا جاتا ہے، جو مقامی آبی حیات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ادارے کے مطابق سندھ اور زیریں پنجاب کے دریائی اور آبی علاقوں میں غیر ملکی مچھلیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو مقامی مچھلیوں کے قدرتی مسکن، افزائش اور ماحولیاتی توازن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ غیر ملکی آبی حیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر نگرانی اور اقدامات کیے جائیں تاکہ مقامی آبی نظام کو محفوظ رکھا جا سکے۔