LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سکیورٹی فورسز کی پنجگور اور چاغی میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک کیوبا میں ایک سال میں ساتواں بلیک آؤٹ، پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا ایران کی کوہاٹ میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت، حکومت اورعوام سے تعزیت کا اظہار حوثی ملیشیا بحیرۂ احمر میں اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے: پاکستان آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا: برطانیہ میری ٹائم کی تصدیق دشمن ملک سے خطرات: ایران نے 3 لاکھ 13 ہزار جانثار متحرک کر دیئے امریکا کا گرین لینڈ پر مستقل سکیورٹی کنٹرول، معاہدہ طے پا گیا: ٹرمپ کا دعویٰ جنوبی کوریا کا امریکا اور اسرائیل کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں فوج بھیجنے سے انکار نمازیوں کو مقدس مقام پر نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ اور انسانیت سوز فعل ہے: حنیف عباسی دہشتگردی کے بزدلانہ واقعات قوم کے عزم، حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتے: اویس لغاری سال کے اختتام تک 3 لاکھ افراد کو فوج میں بھرتی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، کریملن ٹرمپ نے 3 بڑے میڈیا اداروں پر وائٹ ہاؤس میں کوریج پر پابندی لگا دی روسی ہتھیار دنیا کے قابل اعتماد اور مؤثر ترین ہتھیاروں میں شامل ہیں، صدر پوتن ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ مالی و عسکری لحاظ سے نقصان اٹھا رہا ہے، ٹرمپ ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب اور ایونٹ کا باقاعدہ آغاز آج سے ہوگا

سپریم کورٹ کا ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست وصول کرنے سے انکار

Web Desk

28 August 2026

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار آفس نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے معترض کر دیا ہے۔

رجسٹرار آفس کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئینی ترمیم اور اس سے متعلقہ امور کی نوعیت کی درخواستیں اب براہِ راست وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں، لہٰذا ایسی درخواستیں وہیں دائر کی جانی چاہئیں۔ یہ درخواست جسٹس (ریٹائرڈ) شبر رضا رضوی کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں ستائیسویں آئینی ترمیم کو آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ کی آزادی کے منافی قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا گیا تھا۔

درخواست گزار نے اپنے موقف میں کہا تھا کہ 1973 کا آئین پاکستان ایک دستور ساز اسمبلی نے تشکیل دیا تھا، جس نے سپریم کورٹ کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا درجہ دیا، جبکہ موجودہ پارلیمنٹ کسی صورت دستور ساز اسمبلی کا درجہ نہیں رکھتی۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ آئین کے بنیادی خدوخال کو تبديل نہیں کیا جا سکتا، اسلامی ریاست میں کسی شخصیت کو تاحیات استثنیٰ دینا آئینی اصولوں کے خلاف ہے اور ججوں کی تعیناتی کے عمل میں ترمیم سے عدلیہ کی آزادی براہِ راست متاثر ہوئی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ سپریم کورٹ ستائیسویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دے اور آرٹیکل 248 کے تحت دیا گیا تاحیات استثنیٰ ختم کرے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا رجسٹرار آفس اس سے قبل بھی ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر کی گئی ایک اور درخواست کو انہی آئینی و اختیاراتی بنیادوں پر واپس کر چکا ہے۔