LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے، مریم نواز جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا 4 فلسطین نواز کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ، تیونس میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدہ گرین لینڈ کی خودمختاری کو متاثر نہیں کرے گا، ڈنمارک اسرائیلی فوج کی غزہ اور جنوبی لبنان میں بمباری، غزہ میں 3 افراد شہید ایران کی ستمبر میں تیل کی فروخت 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت واشنگٹن کا کرم نہیں ہمارا قانونی حق ہے: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ امریکی فوج کا آبنائے ہرمز کے راستے تجارت کا حجم 6 ماہ کی بلند ترین سطح پر آنے کا دعویٰ 3 امریکی نیوز اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا گیا

سینیٹ اجلاس: سانحہ پمز پر اپوزیشن و حکومت کے درمیان شدید نوک جھونک، پالیسی اصلاحات کا مطالبہ

Web Desk

28 August 2026

اسلام آباد: ایوانِ بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں “سانحہ پمز” کا معاملہ گونج اٹھا، جہاں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ہاؤس کو واقعے پر بریفنگ دی جبکہ ارکانِ سینیٹ نے ہسپتال انتظامیہ، بیوروکریسی اور نظامِ صحت کی خامیوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

سینیٹ کے اجلاس میں سانحہ پمز پر توجہ دلاؤ نوٹس ایجنڈے کا حصہ تھا۔ بحث کے دوران مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر سعدیہ عباسی نے انکشاف کیا کہ وہ اور سلیم مانڈوی والا ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ED) پمز کی تقرری کے بورڈ میں شامل تھے اور انہوں نے اس تقرری کی سخت مخالفت کی تھی، تاہم بیوروکریسی کی شدید حمایت پر انہیں تعینات کیا گیا۔ سعدیہ عباسی نے الزام عائد کیا کہ ای ڈی پمز کی رسائی ایسی جگہوں پر ہے جہاں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا، اور کہا کہ اس المیے کے اصل قصوروار وہی ہیں جنہیں فوری گرفتار کیا جانا چاہیے تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ ایسے المیے ہوتے ہیں، تحقیقات اور کمیٹیاں بھی بنتی ہیں لیکن حالات نہیں بدلتے۔ انہوں نے انقلابی اصلاحات کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ قانون بنایا جائے کہ سرکاری خزانے سے تنخواہ اور مراعات لینے والے تمام افسران، ججوں اور سیاست دانوں اور ان کے اہلخانہ کا علاج صرف سرکاری ہسپتالوں میں ہو اور نجی ہسپتالوں میں علاج پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ پرویز رشید نے مزید کہا کہ سرکاری ملازمین کے بچوں کے لیے سرکاری سکول اور ان کی سواری کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ لازمی قرار دی جائے، جبکہ پاک فوج کے سی ایم ایچ (CMH) ماڈل کی مثال دی جہاں سپاہی سے لے کر جنرل تک ایک ہی جگہ علاج کراتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی سینیٹر فلک ناز چترالی نے حکومت اور وزیرِ صحت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب وہ پمز گئیں تو سیکیورٹی گارڈز نے بدسلوکی کی، جبکہ معصوم بچوں کی لاشیں شاپنگ بیگز میں والدین کے حوالے کر کے انہیں خاموش رہنے کا کہا گیا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت سے اسلام آباد کے دو ہسپتال نہیں سنبھالے جا رہے اور یہ بانی پی ٹی آئی کو بھی سیکورٹی رسک کے باوجود پمز لائے تھے۔

فلک ناز چترالی کے انکشافات اور سیاسی جملے بازی پر ن لیگ اور ایم کیو ایم کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ سینیٹر طلال چوہدری نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ طے کر لیا جائے کہ ایوان میں سیاست کرنی ہے یا پمز کے دردناک واقعے پر بات کرنی ہے۔