LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاور اور گیس شعبوں کا مجموعی گردشی قرضہ 5306 ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا شہباز شریف نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو وزیراعظم ہاؤس طلب کر لیا قطر کا جلد نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کے اعلان کا فیصلہ فضل الرحمان سیاسی مقاصد کیلئے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں: حنیف عباسی حملوں کا خطرہ، امریکا کا مشرق وسطیٰ میں اپنے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ پنجاب حکومت کا جاسوسی کے آلات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ سینیٹ میں عائلی قوانین، نجی سکیورٹی گارڈز کے حقوق سمیت 9 بل پیش حیدرآباد کا 38 سالہ شخص ریبیز کے باعث انتقال کرگیا پنجاب کابینہ نے صنعتی ترقی اور ایکسپورٹ پروگرام سکیم کے فیچرز کی منظوری دیدی: عظمیٰ بخاری پیٹرولیم لیوی پر تحفظات: حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیموں میں دوبارہ ملاقات کا امکان موجودہ حکومت کے کیسز بھی کھلے ہیں، صرف تشہیر نہیں ہو رہی: چیئرمین نیب ملک بھر میں سونے کی قیمت مستحکم، چاندی مزید مہنگی ہوگئی نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے معاشی اہداف کی منظوری دیدی پاک فوج کی قربانیوں پر کوئی شک نہیں: نواز شریف وفاقی وزارتِ تعلیم اور گوتھ اے آئی کے درمیان مفاہمتی یادداشت، مفت پریمیم سبسکرپشنز کا اعلان

پیپلز پارٹی نے صدر کیلئے تاحیات استثنیٰ اور نیب خاتمے کے مطالبات پیش کردیے

Web Desk

9 November 2025

اسلام آباد: 27ویں آئینی ترمیم پر ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حالیہ مذاکرات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی، صدر کےلیے تاعمر استثنیٰ اور قومی احتساب بیورو کے خاتمے کا مطالبہ لے آئی۔

آئین کی شق 248 صدر کو اپنے عہدے کی مدت کے دوران کسی بھی فوجداری کارروائی سے استثنیٰ دیتا ہے، اس حوالے سے درج ہے کہ ’’ کسی بھی عدالت میں صدر اور گورنر کے خلاف ان کے عہدے کی مدت کے دوران کسی بھی قسم کی کوئی فوجداری کارروائی نہ تو شروع ہو سکتی ہے اور نہ ہی جاری رہ سکتی ہے خواہ وہ کچھ بھی ہو‘‘ تاہم اس کے باوجود پیپلزپارٹی نے ان کے صدارتی عہدے کی مدت سے آگے تاعمر استثنیٰ کا تقاضا کرڈالا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر پارلیمنٹ اس کی منظوری دے دیتی ہے تو صدر کے خلاف نئی یا پرانی کوئی فوجداری کارروائی ان کے عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی نہیں ہوسکتی۔ پارٹی نے نیب ختم کرنے کا تقاضا بھی کیا ہے جو کہ میثاق جمہوریت کا حصہ بھی ہے جس پر پیپلزپارٹی اور نواز لیگ نے 2006 میں دستخط کیے تھے۔