LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست نہیں کی: ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا ایران امریکا مذاکرات کا نیا دور، امریکی نیوز ویب سائٹ کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا امریکا کیساتھ تنازع ایران کے ہتھیار ڈالنے سے کبھی ختم نہیں ہوگا، باقر قالیباف پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک، 2050 تک آبادی 40 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ وزیراعظم شہباز شریف کا امیر قطر سے رابطہ، حملوں کے تناظر میں عوام کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار میرا قتل ہوا تو ایران پر غیرمعمولی بمباری کی جائے گی۔ ٹرمپ چین کا ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی برقرار رکھنے کا مطالبہ امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کردیں ترکیہ نے نیتن یاہو حکومت کو بین الاقوامی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دیدیا پاکستان کے خلاف عالمی سازشیں ہورہی ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان شہر قائد میں افغانیوں کو غیر قانونی قومی شناختی کارڈ بنا کر دینے والا نیٹ ورک پکڑا گیا حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ایران ظلم، دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا: باقر قالیباف پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے دو منصوبوں کو عالمی اعزازات، مریم نواز کا اظہار مسرت ایلون مسک کے دعوے نے ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی بحث چھیڑ دی

پیپلز پارٹی نے صدر کیلئے تاحیات استثنیٰ اور نیب خاتمے کے مطالبات پیش کردیے

Web Desk

9 November 2025

اسلام آباد: 27ویں آئینی ترمیم پر ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حالیہ مذاکرات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی، صدر کےلیے تاعمر استثنیٰ اور قومی احتساب بیورو کے خاتمے کا مطالبہ لے آئی۔

آئین کی شق 248 صدر کو اپنے عہدے کی مدت کے دوران کسی بھی فوجداری کارروائی سے استثنیٰ دیتا ہے، اس حوالے سے درج ہے کہ ’’ کسی بھی عدالت میں صدر اور گورنر کے خلاف ان کے عہدے کی مدت کے دوران کسی بھی قسم کی کوئی فوجداری کارروائی نہ تو شروع ہو سکتی ہے اور نہ ہی جاری رہ سکتی ہے خواہ وہ کچھ بھی ہو‘‘ تاہم اس کے باوجود پیپلزپارٹی نے ان کے صدارتی عہدے کی مدت سے آگے تاعمر استثنیٰ کا تقاضا کرڈالا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر پارلیمنٹ اس کی منظوری دے دیتی ہے تو صدر کے خلاف نئی یا پرانی کوئی فوجداری کارروائی ان کے عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی نہیں ہوسکتی۔ پارٹی نے نیب ختم کرنے کا تقاضا بھی کیا ہے جو کہ میثاق جمہوریت کا حصہ بھی ہے جس پر پیپلزپارٹی اور نواز لیگ نے 2006 میں دستخط کیے تھے۔