LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قومی پیغام امن کمیٹی کا مقصد مذہبی ہم آہنگی، امن و اتحاد کا فروغ ہے: طاہر اشرفی پاکستان اور امریکا کی سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے: اسحاق ڈار آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ سب سے آگے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے: رانا ثناء دنیا کے بڑے کنٹینر بردار جہازوں میں شامل ایم ایس سی مرجام کراچی پورٹ پہنچ گیا جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی کی وارننگ جاری پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی میں ترامیم منظور، پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت کویت کے وزیر خارجہ آج 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے نیتن یاہو امریکا پہنچ گئے، ٹرمپ سے ملاقات میں ایران جنگ پر تبادلہ خیال متوقع عمران خان رہائی فورس کیس: آئینی عدالت کا فریقین کو جواب جمع کرانے کیلئے مہلت پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال بہتر، پانی کا بہاؤ معمول پر آگیا آزاد کشمیر الیکشن: ن لیگ نے 8 نشستیں جیت کر میدان مار لیا، پیپلزپارٹی 4 پرکامیاب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان صدر مملکت اور وزیراعظم کا 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

خلا میں جدید نظام کے لیے بڑا قدم ,ٹیکنالوجی کمپنیوں کی دوڑ

Web Desk

8 November 2025

دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب زمین سے آگے بڑھ کر خلا میں ڈیٹا مراکز قائم کرنے کی دوڑ میں شامل ہو گئی ہیں، ان کمپنیوں کا مقصد ایسے ڈیٹا سینٹرز بنانا ہے جو مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلیں اور زمین کے قدرتی وسائل پر بوجھ کم کریں۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں سٹار کلاؤڈ نے حال ہی میں ایک چھوٹی سی مصنوعی سیارچہ (سیٹلائٹ) خلا میں بھیجی ہے، جس میں جدید کمپیوٹر چپ نصب ہے۔ یہ قدم مستقبل میں خلا میں مکمل ڈیٹا مراکز قائم کرنے کی سمت پہلا عملی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

کاروباری اداروں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے اے آئی ٹولز

ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ فلپ جانسٹن کے مطابق آنے والے برسوں میں خلا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنا زمین پر تعمیر کرنے سے زیادہ مؤثر اور ماحول دوست ثابت ہو سکتا ہے، خلا میں سورج کی توانائی مسلسل دستیاب ہوتی ہے، جبکہ وہاں درجہ حرارت بھی کمپیوٹنگ کے لیے بہتر ماحول فراہم کرتا ہے۔

اس دوڑ میں بڑی عالمی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ایک معروف بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی سن 2027 تک اپنی تجرباتی سیٹلائٹس خلا میں بھیجے گی تاکہ شمسی توانائی سے چلنے والے ڈیٹا نیٹ ورک کا تجربہ کیا جا سکے۔ اسی طرح ایک بڑی خلائی کمپنی اگلے سال اپنے نیٹ ورک کے ذریعے خلا میں ڈیٹا مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ماہرین کے مطابق خلا میں موجود سیٹلائٹ ڈیٹا مراکز لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے زمین سے جڑ سکتے ہیں، جس سے ڈیٹا کی رفتار میں زبردست اضافہ ممکن ہو گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ممکن ہے، لیکن فی الحال اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ تاہم جیسے جیسے راکٹ ٹیکنالوجی میں بہتری آ رہی ہے، توقع ہے کہ 2030 کی دہائی کے وسط تک خلا میں قائم ڈیٹا مراکز زمین پر موجود مراکز کے مقابلے میں لاگت کے لحاظ سے بھی بہتر ہو جائیں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل میں ڈیٹا انفراسٹرکچر زمین سے باہر، خلا کی سمت منتقل ہو رہا ہے — اور یہی آنے والے دور کی ٹیکنالوجی اور معیشت کا نیا سنگِ میل ثابت ہوگا۔